ہزارہ

کراچی، حیدر آباد،میرپورخاص، ٹنڈوالہ یار میں بارشوں میں پیپلز پارٹی کی حکومت کی ناقص کارکردگی نے عوام کو شدید نقصان پہنچایا۔

کراچی کھنڈرات کا شہر تھا اب انکے نئے تجربے والے ٹائلز اکھڑ اکھڑ کر بتا رہے ہیں کہ کراچی کو کنکریٹ سڑکیں اورٹھوس کام کی ضرورت ہے۔

کراچی ( اسٹاف رپورٹر) مہاجر اتحاد نیشنل موومنٹ کے چیئرمین محمد انور نے کہا ہے کہ کراچی، حیدر آباد،میرپورخاص، ٹنڈوالہ یار میں بارشوں میں پیپلز پارٹی کی حکومت کی ناقص کارکردگی نے عوام کو شدید نقصان پہنچایا۔ کراچی کھنڈرات کا شہر تھا اب انکے نئے تجربے والے ٹائلز اکھڑ اکھڑ کر بتا رہے ہیں کہ کراچی کو کنکریٹ سڑکیں اورٹھوس کام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بات سندھ کے مختلف شہروں کے دورے کے بعد کراچی میں مجلس عاملہ کے اجلاس سے خطاب میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ تباہی کی وجہ کرپشن ہے۔ بیڈ گورننس ہے۔ مسائل کا واحد حل 27ویں ترمیم ہے۔ انتظامی یونٹ قائم کئے بغیر کراچی کی ترقی ممکن نہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے اپیل ہے کہ وہ کراچی پر توجہ دیں۔ جو معاشی حب ہے۔ ڈاکٹر انور نے کہا کہ وزراء اور میئر کراچی جو راگ الاپ رہے ہیں حقیقت یہ ہے کہ وفاق اور فوج این ڈی ایم اے نے نالوں سے تجاوزات ہٹواکر کشادہ سڑکیں اور علاقوں کو کلیئر نہ کرایاہوتا تو شہر سے نکاسی آب ممکن نہیں تھی۔ چائنا کٹنگ سے ایم کیو ایم نے اگر شہر برباد کیا تھا تو اب چائنا کٹنگ سے پیپلز پارٹی شہر برباد کر رہی ہے۔ اورنگی میں علی گڑھ بازاراورنگی میں قبضہ مافیا اور کیایم سی ٹی ایم سیز کی غفلت سے تاجر برادری کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔گلشن ضیاء میں لوٹ سیل لگی ہوئی ہے۔ سرجانی میں چائنا کٹنگ فائلیں گھوم رہی ہیں۔ پورشن مافیا آزاد ہے۔ کراچی کی کوئی سڑک ایسی نہیں جو درست حالت میں ہو۔ بلدیاتی قیادت پی پی پی، جماعت اسلامی، پی ٹی آئی بری طرح ناکام ہیں۔ میئر کراچی کو چائنا کٹنگ کرنے والوں کی سرپرستی سے فرصت مل جائے۔ رشوت لے کر او پی ایس افسران کی کرپشن اور کے ایم سی کو لسانی میٹرو پولیٹن کارپوریشن بنانے سے فرصت ملے تو کراچی پر کچھ رقم لگادیں۔ گورنر جو خود کو عوامی گورنر کہتے ہیں شعبدہ بازی کے بجائے کراچی کی ترقی کے لئے وفاق۔ صوبہ اور لوکل گورنمنٹ کے درمیان پل کا کردار ادا کریں۔ حافظ نعیم الرحمان جماعت اسلامی کی نظامت (امیر) شپ چھوڑ کر کراچی کی میئر شپ سنبھالیں۔ ن لیگ کراچی کی دوسری بڑی مجرم جماعت ہے۔ جو ایم کیو ایم کو ڈان بنا کر کراچی کی ترقی میں کوئی حصہ نہیں ڈال رہی۔ اپنی دس نشستیں جماعت اسلامی کے پلڑے میں ڈال دے تو میئر حافظ نعیم الرحمان بن سکتے ہیں۔ منعم ظفر کراچی کے ناکام امیر ہیں۔ کراچی کا مقدمہ حافظ نعیم الرحمان لڑ سکتے ہیں۔ آفاق احمد ڈرائنگ روم کی سیاست اور اخباری بیان بازی سے باہر نکلیں انکے لوگ چائناکٹنگ کر رہے ہیں۔اگر وہ سرپرستی نہیں کر رہے تو ان سے لاتعلقی کیوں نہیں کرتے؟ پی ڈی بھی اسٹیٹ ایجنسی چلاتا ہے وہ بھی اسٹیٹ کا کام کرتے ہیں۔پیپلز پارٹی سے گٹھ جوڑ تو نہیں۔ میئر آفاق احمد پر کوئی بات نہیں کرتے کیوں کہ انکے لوگوں کے زریعے سارے گورکھ دھندے ہو رہے ہیں۔ نیب سزا یافتہ افسران کے ایم سی کا نظام چلا رہے ہیں۔ وفاق واپس جانے کے بجائے کرپٹ میونسپل کمشنر تیسری مرتبہ توسیع لے کرسندھ کو لوٹ کر واپس جائیگا۔ میئر کا فرنٹ میں کہا جاتا ہے لیکن میئر غافل ہے کہ ہر جگہ میئر کی کرپشن کا ریکارڈ وہی پہنچا رہا ہے۔محمد انور نے کہا کہ فیلڈ مارشل تاجروں، صنعت کاروں اور آباد سے کئے گئے وعدے اور سندھ حکومت کے کرپشن پر نوٹس لیں اور انتظامی یونٹس کے لئے کردار ادا کریں۔ پی پی پی کی متعصب حکومت ورنہ اپنی بی ٹیم سندھو دیش کو متحرک کرکے ماحول خراب کرے گی۔ پیپلز پارٹی سے پوچھا جائے کہ اندرون سندھ کی دیواروں سے سندھو دیش کے نعرے کیوں نہیں مٹائے جاتے؟ بلاول بھٹو کی والدہ کے نام کا اسٹیڈیم عابد ستی، ممتاز تنولی، پی ڈی فیصل رضوی، ٹاؤن چیئرمین نے ملکر بیچ دیا۔ عامر بھٹو کو پی پی پی کے لینڈ گریبرزنے مارا۔ پی پی پی کے لوگ لینڈ مافیا اور عہدیدار گرفتار کرارہی ہے۔ انکے لوگ ایکشن کیوں نہیں لے رہے؟ محمد انور نے کراچی کو کرائم فری بنانے اور مافیازکے خاتمے کے لئے ڈی جی رینجرز اور کور کمانڈر سے خصوصی اپیل کی ہے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button