کالمز

"خاموش سمندر ” ڈاکٹر احسان تابش کی نظر میں

رپورٹ: راجہ نورالہی عاطف

محترمہ روبینہ شاہین کی شخصیت ہرگز کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اعلی ا صلاحیتیں عطا کی ہیں ۔ اردوادب کے فروغ کےلیے روبینہ شاہین کی گرانقدر خدمات ہیں جن کا نہ صرف وطن عزیز میں بلکہ بیرون ممالک کے ادبی حلقوں کی طرف سے اعتراف کیا جاتاہے۔ معروف ادیب ڈاکٹر احسان تابش اس حوالے رقمطراز ہوتے ہوءے کہتے ہیں کہ ناول نگار ، افسانہ نگار، کالم نگار ، نظامت کار معتبر شاعرہ محترمہ روبینہ شاہین کو ان کے شعری مجموعہ "خاموش سمندر ” کی رونمائی مبارک ہو۔ یہ حسین اور یادگار لمحہ انہیں مبارک ہو۔ میری دعائیں ان کے ساتھ ہمیشہ رہیں گی۔ پڑھتی رہیں لکھتی رہیں ۔ سلامت رہیں آمین ۔ اردو ادب کی معتبر اور قدآور شخصیت زیب النساء زیبی اور معروف معتبر شاعر ارحم روحان تخلیق کار کے آن لائن پلیٹ فارم سے جس طرح ادیبوں شاعروں اور تنقید نگاروں کو عالمی ادب کا حصہ بنا رہے ہیں۔ ان کی مہارت کی پذیرائی کر رہے ہیں وہ بے مثال ہے واقعئ ان کا یہ عمل قابل قدر ہے۔ معتبر شاعرہ روبینہ شاہین کے فن اور شخصیت کے حوالے سے بس اتنا کہنا ہے کہ ان کی شاعری میں فکری گہرائی ہے ۔ معنوی تہ داری ہے۔ ان کا اسلوب منفرد ہے اور ان کی اخلاقی بلندی بے مثال ہے۔
شاعرہ روبینہ شاہین کی نرم گفتاری اور فکری پرواز خوب سے خوب تر ہے ۔ "خاموش سمندر” ان کے فکری شخصیت کا اور علمی بصیرت کا آئینہ ہے۔ عالمی سطح پر جانی پہچانی جانے والی شخصیت روبینہ شاہین ہمت و حوصلہ ہیں ۔ امید ہیں اور خوبصورت شاعری کی شاعرہ ہیں ۔ سفر ان کا جاری ہے مگر سنگ تراش کی انہیں ابھی بھی تلاش ہے۔
روبینہ شاہین کی شاعری شعور کا اظہار ہے ۔ ان کے لفظ بے جان نہیں۔ ان کا لب و لہجہ نرم اور شگفتہ ہے۔ ان کا ہر لفظ دل میں اتر جاتا ہے۔ منفی جذبات سے دور رہنے والی شاعرہ روبینہ شاہین شعری سفر میں شعر بننے کا ہنر جانتی ہیں۔ حوصلے کا روشن چراغ ہیں روبینہ شاہین ۔ انداز فکر جدا رکھنے والی شاعرہ روبینہ شاہین کی شاعری لطافت احساس، رنگینی و رعنائی کی شاعری ہے ۔
لاہور کی ادبی فضا میں سانس لینے والی روبینہ شاہین کی تحریر میں فکری گہرائی ہے۔ مثبت رنگ جلوہ گر ہے۔ اردو ادب کے منظر نامے پر اپنی پہچان بنانے والی روبینہ شاہین لاہور کی ادبی فضا کو خوبصورت بنانے اور بہتر بنانے میں متحرک نظر آتی ہیں ۔ ان کی شخصیت کی طرح ان کی نظم اور ان کی غزل ہے۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ انکھوں میں یقین کی روشنی رکھنے والی روبینہ شاہین کی شاعری میں عصری آگہی ہے۔ ان کے اندر شعر کہنے کی صلاحیت بدرجہ ء اتم موجود ہے۔ درد مند دل رکھنے والی شاعرہ روبینہ شاہین کا انداز تغزل نکھرا ہوا، منفرد اور شاندار دکھائی دیتا ہے ۔ کشف ذات سےآگے کے سفر میں شاعرانہ حسن کو برقرار رکھنے میں کامیاب نظر آتی ہیں۔ احساسات، تجربات اور مشاہدات کو قلمبند کرنا آسان نہیں ہوتا۔ اس مشکل کام کو اشعار میں پیش کر کے جذبوں کی بازیات کی ہے ۔ سماجی زندگی کو پیش کرنے والی یہ شاعرہ معاشرت کی عکاسی کرنے کا ہنر جانتی ہیں۔ ان کی شاعری ان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ تجربات و مشاہدات کا نچوڑ ہے ” خاموش سمندر ۔ "

 

بقول معتبر شاعر ارحم روحان
"زندگی کے نشیب و فراز کے ساتھ ساتھ روبینہ کی شاعری میں وارفتگی ہے, دلکشی بھی اور جان سوزی بھی ہے. ”
بقول مھمد شیراز انجم
” ان کی شاعری کے اسلوب میں سلاست ، تخیل کی اونچی اڑان ، آسان زبان اور ہنر سخنوری بدرجہ ء اتم موجود ہے۔ ”
بقول آفتاب خان
"شاعری کی آنکھ نے ہمیں شاعری میں وہ مناظر دکھائے ہیں جسے اس نے اپنے مشاہدے کا حصہ بنایا۔ ”
بقول ممتاز راشد لاہوری
” کسی بھی شاعر یا شاعرہ کے پہلے مجموعے میں کمی بیشی کے مسائل ضرور رہتے ہیں یہ اس کتاب میں بھی ہے۔ ”
بقول ڈاکٹر شاہدہ دلاور
” روبینہ شاہین کی شاعری گہرے سمندر کی مانند ہے ۔ جہاں ان کے پاس لفظوں کا ذخیرہ ہے وہاں شعور کی طاقت بھی ہے۔
بقول معتبر استاذ شاعر مختار تلہری
” روبینہ شاہین جہاں زبان کو برتنے کا سلیقہ رکھتی ہیں وہاں زندگی اور زندگی کے تمام تر تقاضوں کا گہرا شعور بھی رکھتی ہیں۔ ”
ڈاکٹر احسان تابش کے مطابق روبینہ شاہین کی شاعری مقصدیت سے خالی نہیں ہے ۔ ان کی غزل روایات کی پاسدار ہے ۔ فکر و شعور کا ائینہ ہے۔ ہمت و حوصلہ کا اشاریہ ہے۔ ان کے اشعار میں زندگی کی رمق موجود ہے ۔ مشکل زمین میں عمدہ شعر کہنے والی شاعرہ روبینہ شاہین کی شاعری میں دینی و روحانی جذبہ بھی خوب سے خوب تر ہے۔ ان کی تخلیقی صلاحیت اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔
روبینہ شاہین کی نعتیں بھی عظمت و اہمیت کی حامل ہیں۔ ان کے یہاں خیالات میں جدت و ندرت ، جذبات میں گہرائی اور فکر کی بلند پروازی ہے۔ ان کے نعتیہ کلام میں عشق و عقیدت ، خلوص و محبت کا جذبہ موجود ہے ۔ نقد و نظر کی کسوٹی پر ان کی نثری نظم بھی روشن اور شاندار ہے۔ امتیازی شان و شوکت کی ملکہ روبینہ شاہین ادب کی محفل میں اہل علم و ادب کے دلوں کو جیتنے کا ہنر جانتی ہیں ۔
چند اشعار ملاحظہ کیجئے
عشق کا جر م اگر خود ہی کیا ہے ہم نے
ٹھیک ہے پھر تو چلو خود کو سزا دیتے ہیں

زندگی اک عجب کہانی ہے
جیسے انکھوں سے بہتا پادی ہے

لوگ سارے ہیں فریبی یہ گلہ ہے روبی
وقت کے دشت میں ہر خار کا حال اچھا ہے

بس وہی لوگ تو ہیں جانتے جینے کا ہنر
دیپ اشکوں کے جو رستے میں جلا دیتے ہیں

لبریز عشق سے کسی عالم میں شوق کے
"دستک دیئے بغیر میرے گھر میں آگیا ”

لفظوں کی اوڑھنی بھی تو ایسی ہے دل نشین
رگوں سے جان لیتا وہ اس دل کا حال ہے

سو بات کی ایک بات روبینہ شاہین کی شاعری خلوص و محبت کا سرچشمہ ہے امید ہے ناول نگار افسانہ نگار کالم نگار نظامت کار روبینہ شاہین تخلیقی سفر میں اسی طرح اپنے خیالات کا اظہار کرتی رہیںنگی ۔ اللہ تعالیٰ ان کی شاعری کو اہم مقام عطا کرے، زور قلم اور زیادہ ہو ، خوش رہیں،
” خاموش سمندر قابل مطالعہ ہے ان کی صلاحیت کا آئینہ ہے۔ ان کے فکر فن کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کتابت و طباعت اور سرورق خوب ہے۔ مجھے یقین ہے اردو ادب کی دنیا میں ان کا یہ شعری مجموعہ "خاموش سمندر ” کی پزیرائی ضرور ہوگی کیونکہ ان کی کوشش لائق تحسین ہے۔ انشاءاللہ ان کا مستقبل روشن رہے گا۔ "

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button