بجلی اور پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا۔پانی کے ڈبل ٹرپل بلوں میں اضافے کے باوجود شہر میں پانی کی فراہمی معطل ہے
سوسائٹیز سے واٹر کارپوریشن بھتہ اور نہ دینے والی سوسائٹیز کا پانی بند کردیا گیا ہے

کراچی (ڈسٹرکٹ رپورٹر) تحریک جوانان پاکستان کے صدر کراچی ڈویژن شفیع جان درانی،صدر ہیومن رائٹس و لیبر ونگ کراچی ڈویژن عزیر شاہ (TJP)نے کہا ہے کہ کراچی میں بجلی اور پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا۔پانی کے ڈبل ٹرپل بلوں میں اضافے کے باوجود شہر میں پانی کی فراہمی معطل ہے۔سوسائٹیز سے واٹر کارپوریشن بھتہ اور نہ دینے والی سوسائٹیز کا پانی بند کردیا گیا ہے۔ کراچی کا پانی ٹینکرز سے مل سکتا ہے نلوں سے نہیں۔ بلدیاتی نمائندے ناکام اور مافیاز کامیاب نظر آتے ہیں۔ گرمی میں لوڈ شیڈنگ عزاب بن گئی۔ انہوں نے کہاکہ پانی کا بل 150سے170روپے کے بجائے اب 750کردیاگیا ہے میئر بل میں اضافہ کرتے وقت پانی کی فراہمی کو یقینی بناتے تو عوام کو اعتراض نہ ہوتا۔ لیکن عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈال کر انہیں عزاب میں مبتلاکردیا گیا ہے۔ کراچی میں اسلیم تینتیس میں صرف من پسند علاقوں میں پانی دیا جا رہا ہے۔ نیو کراچی، نارتھ کراچی، لانڈھی کورنگی میں پانی نایاب ہے۔ لوڈ شیڈنگ ان علاقوں میں بھی کی جارہی ہے جنہیں کے الیکٹرک نے لوڈ شیڈنگ مستشنی قرار دیا ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ پانی کی سپلائی کا نظام سیاسی بنیادوں پر ختم کرنے کے لئے دوبارہ رینجرز کے حوالے کیا جائے۔ جن سوسائٹیز سے ماہانہ بھتہ لے کر پانی دیا جا رہا ہے۔ اسکی تحقیقات اور تمام علاقوں کو یکساں سپلائی کی جائے۔


