ہزارہ

یوم ثقافت پنجاب ایک تہوارکی طرح ہے جو سر زمین کی روح کے کے ساتھ ایک گہرا تعلق قائم کرتا ہے

 صوفی بزرگ بابا بلھے شاہ کی لازاول شاعری اور وارث شاہ کی پائیدار داستانوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پنجاب صرف ایک جغرافیائی علاقہ نہیں بلکہ محبت، جزبے اور فراوانی کا ایک متحرک مظہر ہے۔ڈاکٹر عشرت العباد خان سابق گورنر سندھ

 

کراچی (ایم پی پی میڈیا سیل / اسٹاف رپورٹر) سابق گورنر سندھ و ایم پی پی کے روح رواں ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا ہے کہ یوم ثقافت پنجاب ایک تہوارکی طرح ہے جو سر زمین کی روح کے کے ساتھ ایک گہرا تعلق قائم کرتا ہے۔ صوفی بزرگ بابا بلھے شاہ کی لازاول شاعری اور وارث شاہ کی پائیدار داستانوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پنجاب صرف ایک جغرافیائی علاقہ نہیں بلکہ محبت، جزبے اور فراوانی کا ایک متحرک مظہر ہے۔ انہوں نے یہ بات گزشتہ روز یوم ثقافت پر منعقدہ میری پہچان پاکستان اسلام آباد اور راولپنڈی کے زیر اہتمام منعقدہ ثقافت ڈے کے موقع پر راولپنڈی پریس کلب میں خطاب کرتے ہوئے کہی۔ جس میں بڑی تعداد میں مانسہرہ، گلگت بلتستان،پنجاب کے مختلف شہروں سے ذمہ داران اور معززین نے شرکت کی۔ ثقافت ڈے کو پر جوش اور پنجاب کے روایتی لباس اور ثقافت اور ڈھول تماشے سمیت ثقافتی رنگ بھرتے نغموں اور پاکستان کے قومی پرچم کے ساتھ روایتی ملبوسات میں منایا گیا۔ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے ویڈیو لنک سے خطاب میں کہا کہ آج ہم پنجاب کی بھرپور اور متحرک ثقافت کا جشن منا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو پنجاب کے دریاؤں جہلم، چناب، راوی، بیاس اور ستلج کے سمندر میں ملنے سے ایک دلکش منظرکشی ہوتی ہے۔ انہوں نے اسکا موازنہ پاکستان کے متنوع ثقافتی منظر نامے سے کیا۔ جس میں سندھی، بلوچی، پشتون، مہاجر، گلگتی، سرائیکی، پنجابی، ہزارہ وال، مکرانی،اور چترالی شناختیں شامل ہیں۔ جنکے منفرد رنگ،اجتماعی طور پر پاکستان کا متحد سمندر بناتے ہیں۔ جو مشترکہ شناخت، غیر متنزلزل وفاداری اور اجتماعی طاقت کی علامت ہے۔ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے بعض ملک دشمن عناصر کی جانب سے ان ثقافتی امتیازات کا استحصال کرنے اور اختلاف کا بیج بونے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان متنوع ثقافتوں کو تقسیم کا ذریعہ سمجھنے کے بجائے طاقت کے بنیادی ستون کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی مجموعی قومی شناخت کو ترجیح دیں۔ سندھ کے14سالہ طویل دور حکومت اور کراچی کے ساتھ اپنے گہرے تعلق کا حوالہ دیتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ ایک ایسا شہر جو اپنی لسانی تنوع رنگوں کی متحرک صفوں اورثقافتوں کے ہم آہنگ بقائے باہمی کے لئے مشہور ہے۔ پاکستان کے ایک چھوٹے نمونے کے طور پر کراچی کے اہم کرداراور قوم کے لئے اسکی نمایاں اقتصادی شراکت کو اجاگر کیا۔ کراچی میں تمام پس منظر کے لوگوں کے پاکستانی پرچم تلے قابل ذکر اتحادپر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر عشرت العباد نے ذات، رنگ و نسل و زباں یا فرقے کی بنیاد پر عوام کو تقسیم کرنے کی کسی بھی مذموم کوشش کو ناکام بنانے کے لئے اپنی مسلسل کوششوں سے آگاہ کیا۔ متنوع پس منظر کے افراد کو ایک متحد گلدستے میں لازمی پھولوں کے طور پر دیکھنے کے لئے اپنے فکر و فلسفے پر زور دیا۔ انہوں نے حاضرین سے سوال پوچھتے ہوئے کہاکہ ”اگر کراچی متحد ہوسکتا ہے تو پاکستان کیوں نہیں‘ انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ وہ اپنی متنوع ثقافتی روایات کو اپنائیں اسکا جشن بھی منائیں۔ میں پنجابی ہوں، میں بلوچی ہوں، میں سندھی ہوں، میں پشتون ہوں، میں مہاجر ہوں، لیکن سب سے پہلے اور سب سے اہم میں پاکستانی ہوں۔ انہوں نے قرآن پاک کی سورۃ الحجرات کی ایک اہم آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بنی نوع اانسان کی قبائل اور قوموں میں تقسیم باہمی شناخت اور افہام و تفہیم کے مقاصد کو پورا کرتی ہے۔ نہ کہ برتری جتانے کی بنیاد کے طور پر انہوں نے انفرادی ثقافتوں شناختوں کا احترام کرنے کی اہمیت پر زور دیا جبکہ بیک وقت قومی اتحاد کی اہمیت کو اولین ترجیح قرار دیا۔ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے آخر میں کہا کہ میری التجا ہے کہ قوم پختہ عزم کے ساتھ متحد رہیں۔ اپنی الگ لسانی اور ثقافتی ورثوں کو اپنائیں جبکہ اپنے دلوں اور عملی طور پر صرف ایک پرچم پاکستانی پرچم کو سربلند رکھیں۔ انہوں نے حاضرین کو پاکستانی پرچم کے حوالے سے پرزور عہد دلوایا۔میری زبان جو بھی ہو میری سوچ پاکستان ہے‘، میرا رنگ جو بھی ہو پاکستان کا پرچم سب سے اونچا ہے۔ میرا شہر جو بھی ہو میری شناخت صرف پاکستان ہے۔ انہوں نے اپنا خطاب ان پرجوش نعروں کے ساتھ ختم کیا۔ ”پاکستان زندہ باد‘ قومی یکجہتی پائندہ باد۔ اور ہماری ثقافتیں ہماری قوت۔ ہمارا پاکستان، میری پہچان پاکستان۔ میری شناخت پاکستان، قبل ازیں مختلف رہنماؤں نے میری پہچان پاکستان کے پیغام اور ثقافتی نغمے اور روایتی رقص اور صوفیانہ کلام بھی پیش کیا۔ میری پہچان پاکستان کے اس پروگرام نے پاکستان کی تمام اکائیوں کو جوڑنے اور ثقافتوں کے ساتھ ایک قوم بننے کی بہترین روایت قائم کی جسے ملک بھر میں سراہا جا رہا ہے۔ ڈاکٹر عشرت العباد کے بیانیہ کو زبردست پزیرائی مل رہی ہے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button