اسلام آباد،لاہور، ملتان،کھاریاں درگاہ عالیہ موہری شریف کا تا قیامت کوئی سجادہ نشین نہیں ِ ہوگا

اسلام آباد،لاہور، ملتان،کھاریاں درگاہ عالیہ موہری شریف کا تا قیامت کوئی سجادہ نشین نہیں ِ ہوگا۔دربار شریف کی سجادگی کا دعویٰ کرنے والے نام نہاد قاتل بھتیجوں کی اولاد کا درگاہ عالیہ سے کسی قسم کا کوئی واسطہ نہیں انکو ولایت اور سجادگی سے حضور خواجہ محمد معصوم پیر آف موہری شریف نے اپنی حیات مبارکہ میں قطع تعلق کرکے ان سے کسی قسم کا تعلق رکھنے والے کو بھی راندہ درگاہ کرنے کا حکم جاری فرما دیا تھا۔ اور اپنی درگاہ عالیہ سے ان نان نہاد سجادگان کو ہمیشہ کے لئے نکال کر اپنی درگاہ کا حقیقی وارث اور خادم اپنی روحانی اولاد جن میں آپکے ہزاروں خلفائے عظام اور لاکھوں مریدین شامل ہیں کو بنادیا تھا جو قیامت تک آپکے سلسلہ طریقت کو پوری دنیا میں آپکی اجازت و حکم سے چلاتے رہیں گے اور دربار شریف کے احاطے میں کسی بھی نام نہاد سجادہ نشین کو ہرگز مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حضرت خواجہ محمد معصوم عالم اسلام کی عظیم روحانی اور بین الاقوامی شہرت یافتہ شخصیت تھے جنہوں نے پوری دنیا بالخصوص یورپ، امریکہ، آسٹریلیا اور افریقہ کے کلیساؤں میں بھی اللہ کا ذکر کروایا اوربے شمار غیر مسلموں کو مسلمان بناکر انکے دلوں پر نہ ختم ہونیوالی حکومت کی انکا فیض روز قیامت تک اسی طرح جاری رہے گا۔ بزرگان دین نے اپنے آستانوں سے مخلوق خدا کو ہمیشہ امن واتحاد رواداری اور محبت کا پیغام دیا۔ملک پاکستان کے موجودہ حالات کا تقاضا یہ ہے کہ اس میں حکمران فوری طور پر نظام مصطفیٰ ﷺ کو نافذ کریں اولیائے کرام کی تعلیمات امت مسلمہ کے لیے منیارہ نور ہیں جن پر عمل کر کے ہم تمام مسائل سے نجات پا سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار درگاہ عالیہ موہری شریف میں منعقدہ 87ویں تین روزہ مرکزی سالانہ عرس صاحب لولاک کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے درگاہ عالیہ کے جید خلفائے عظام جن میں پیرخواجہ نوید حسین نقشبندی،پیر صوفی اعظم معصومی،پیر صوفی اشرف معصومی،پیر صوفی ذوالفقار معصومی،پیر صاحبزادہ منصور سلیم معصومی،پیر ڈاکٹر زبیر اختر معصومی،پیر صوفی شمس معصومی،پیر صوفی شیخ یوسف معصومی،پیر صوفی جمیل خان معصومی،،پیر صوفی زبیر معصومی،علامہ پیر بشیر چشتی،پیر صوفی جاوید اقبال معصومی،پیر صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی ودیگرخلفائے عظام علماء و مشائخ شامل ہیں نے کیا۔اور اس کے ساتھ ہی محکمہ اوقاف پنجاب کے زیر اہتمام منعقد ہونیوالی یہ87ویں تین روزہ سالانہ عرس مبارک کی روح پرور تقریبات اختتام پذیر ہو گیئں۔عرس مبارک کے آخر میں عالم اسلام،امت مسلمہ،ملک پاکستان،بالخصوص کشمیر غزہ فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کے لئے اور تمام مریدین،عقیدت مندوں کے لئے خصوصی اجتماعی دعا کی گئی اور لنگر عام کا اہتمام ہوا۔عرس مبارک کے اختتام پر درگاہ عالیہ کے ترجمان اور جماعت اہلسنت اور جمعیت علمائے پاکستان نورانی کے ترجمان صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی نے تمام خلفاء،علماء ع مشایخ کی طرف سے غزہ اور فلسطینی مسلمانوں کی بھرپور حمایت میں ایک قرداد کے ذریعے تمام مسلم دنیا اور بالخصوص حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ غزہ اور فلسطینی بھایؤں کے ساتھ پاکستانی مسلمانوں کے دل دھڑکتے ہیں تمام مسلم حکمران غیرت و حمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے متحد ہوکر اسرائیل سے بدلہ لیں اور اپنے غزہ کے مسلمانوں کی مدد کریں۔


