ہزارہ

ایکسپورٹ میں اضافہ کےلئے فوری نئی حکمت عملی بنانی ہوگی: شیخ امتیاز حسین

امریکہ کی جانب سے پاکستان سمیت 180مما لک پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کے اعلان سے ایکسپورٹ شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایکسپورٹ میں اضافہ کےلئے فوری نئی حکمت عملی بنانی ہوگی یہ بات امریکہ پاکستان بزنس ڈیولپمنٹ فوم کے پریذیڈینٹ شیخ امتیاز حسین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نئے جوابی محصولات عائد کرنے کے اعلان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان سمیت 180ممالک پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کے اعلان سے ایکسپورٹ شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے امریکہ کے اس فیصلے سے امریکہ میں پاکستانی مصنوعات، خاص طور پر ٹیکسٹائل کی قیمتوں میں مسابقت کو شدید متاثر ہوگی شیخ امتیاز حسین نے کہا کہ ٹرمپ کی نئی تجارتی پالیسی سے دنیا بھر کے ممالک کی ایکسپورٹ میں کمی آئے گی جبکہ معیشت کو بھی نقصان پہنچے گا نیا 29 فیصد جوابی ٹیرف پہلے سے لاگو 10 فیصد ٹیرف کے ساتھ ملا کر پاکستانی برآمدات کو امریکی مارکیٹ میں مہنگا کر دے گا اور پاکستان کو کم ٹیرف والے ممالک جیسے بھارت اور ترکی کے مقابلے میں نقصان پہنچے گایہ اقدامات پاکستان کو دی گئی GSP ( Generalized System of Preferences ) تجارتی سہولت کی عملی طور پر تنسیخ کے مترادف ہیں جس کے تحت کچھ مصنوعات پر 4-5 فیصد ڈیوٹی لی جاتی تھی انہوںنے کہاکہ امریکہ پاکستان کا سب سے بڑا سنگل کنٹری برآمدی بازار ہے جہاں سالانہ 6 ارب ڈالر کی مصنوعات، بالخصوص ٹیکسٹائل، برآمد کی جاتی ہیںجنوبی ایشیاءکے ممالک پاکستان پر 29فیصد، بھارت28فیصد، بنگلہ دیش26فیصد،سری لنکا44فیصد،نیپال،بھوٹان،مالدیپ اور افغانستان پر10,10فیصد محصولات (ٹیرِف) عائد کیے گئے ہیںجبکہ عالمی محصولات کی شرحیں میںسب سے زیادہ محصولات لیسوتھو اورسینٹ پیئر اینڈ میکیلون پر50فیصد،کمبوڈیا 49فیصد او یورپی یونین کے ممالک پر 20فیصد محصول لاگو ہے جس میں چین 34فیصد،جنوبی کوریا25فیصد، جاپان24فیصد،یورپی یونین 20فیصد،برطانیہ،برازیل،سعودی عرب اور ترکیہ پر 10,10فیصد محصولات عائد کئے گئے ہیں شیخ امتیاز حسین نے کہا کہ عالمی محصولات کی بین الاقوامی سطح پر ٹیرف میں ہونے والے اس ردوبدل میں پاکستان کےلئے فائدے کے چند امکانات موجود ہیں پاکستانی کاروباری افراد ایکسپورٹ کو بڑھانے اور ملکی معیشت کو بریک لگنے سے بچانے کے لئے ایکسپورٹرز کو ایکسپورٹ میں اضافے کے لئے چائنا اورافریقہ سمیت دیگر نئی منڈیوں پر بھی توجہ دینی ہوگی تا کہ معیشت کی ترقی کا سفر جاری رہ سکے.

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button