ہزارہ

پاکستان میں پانی کے بحران نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے شیخ امتیاز حسین

پانی کی کمی صرف ماحولیات کےلئے ہی تشویش ناک نہیں ہے بلکہ ہماری قومی سلامتی، خوراک کی سلامتی اور بقا کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے پاکستان میں پانی کے بحران سے نکلنے کے لیے ہمیں موثر حکمت عملی اپنانا ہوگی

 

کراچی(اسٹاف رپورٹر) پاکستان میں پانی کے بحران نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے پاکستان میں پانی کا بحران انتہائی سنگین ہوتا جا رہا ہے یہ بات پاکستان ایگریکلچر اینڈہارٹی کلچر فورم کے پریذیڈینٹ شیخ امتیاز حسین نے ملک میں موجود ہ پانی کے بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ پانی کی کمی صرف ماحولیات کےلئے ہی تشویش ناک نہیں ہے بلکہ ہماری قومی سلامتی، خوراک کی سلامتی اور بقا کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے پاکستان میں پانی کے بحران سے نکلنے کے لیے ہمیں موثر حکمت عملی اپنانا ہوگی جس کےلئے سب سے پہلے، پانی کے ذخائر میں اضافے کے لیے نئے ڈیمز اور آبی ذخائر تعمیر کرنا ضرورت ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ پانی کے ضیائع کو روکنے کے لیے جدید آبپاشی کے طریقے اپنانے چاہئیں، جیسے ڈرپ اریگیشن اور بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کے منصوبے ،عوام میں پانی کے موثر استعمال اور بچت کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا بھی لازمی ہے شیخ امتیاز حسین نے کہا کہ پاکستان میں پانی کی کمی کوئی نئی بات نہیں ہے آبی وسائل میںکمی کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ پاکستان کی بقا کے لیے سب سے اہم ہے 2008 کے اوائل میں، روئٹرز نے دبئی میں ایک بین الاقوامی فورم میں رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان میں بہنے والے پانی کی روک تھام ہماری زرعی پیداواری صلاحیت اور غذائی تحفظ کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے بدقسمتی سے ان انتباہات کے باوجود ہم عمل کرنے میں ناکام رہے ہیں انہوں نے کہا کہ بھارت کی آبی جنگ اور ہماری خوش فہمی جہاں سندھ طاس معاہدہ محاصرے میں ہے وہیں دریائے سندھ، جہلم اور چناب پر بھارت کے ڈیم معاشی سبوتازکے ہتھیار بنے ہوئے ہیں اس کے باوجود پاکستان میں 50 سالوں میں کوئی نیا بڑا آبی ذخیرہ نہیں بنایا گیا ہر دور حکومت میں پاکستان میں نئے ڈیمز بنانے کی حکمت عملی بنائی جاتی ہے مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہوتا شیخ امتیاز حسین نے کہا کہ پاکستان میں ہونے والی بارشوں کا پانی بھی سمند ر برد کردیا جاتا ہے جبکہ اگر ملک میں ڈیمز تعمیر ہوں تو بارش کے پانی کو فلٹر کرکے استعمال کے قابل بنایا جا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ ابھی بھی وقت ہے ہمیں اپنے آبی وسائل میں اضافے کےلئے فوری اقدامات کرنے ہوں گے تا کہ ملک کو پانی کی قلت سے بچایا جا سکے گھروں اور ہوٹلز میںپانی کے سمارٹ نل کی تنصیب،
کھیتوں اور لان پودوں اور فصلوں کو پانی دینے کے لئے اسپرے نل کا استعمال اور آبپاشی کی جدید تکنیکوں کو اپناکر پانی کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے کیونکہ بیجوں کو اگنے کے لیے صرف نم مٹی کی ضرورت ہوتی ہے شیخ امتیاز حسین نے کہا کہ پانی کی کمی والے علاقوں میں گنے کی کاشت ختم کو ختم کرکے ڈی سیلینیشن پلانٹس بنائیں کیونکہ سمندر ہمارا آخری سہارا ہے آنے والی نسلوں کو پانی اور بہترین ماحول فراہم کرنے کے لئے ہمیں آج ہی اقدامات کرنے ہوں گے پاکستان اور بھارت کے درمیان آبی جنگ کا خطرہ ہر گزرتے دن کے ساتھ حقیقی ہوتا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ کراچی دنیا کے 12 ویں بڑے شہر میں پانی کے ذخائر نہیں ہیں اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آبی فسادات پھوٹ سکتے ہیں جس سے بچنے کےلئے ہمیں فوری طور پر بارش کے پانی کے ذخیرہ کرکے ہر دستیاب پانی کے ذرائع کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا ہوگا کیونکہ اب بحث کا وقت گزر چکا ہے اب عمل کا وقت ہے اگر آج ہم نے پانی کا تحفظ نہ کیا تو کل ہمیں تباہ کن نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا اس سے پہلے کہ پانی کی کمی قومی آفت میں بدل جائے حکومتی سطح پر سخت قوانین نافذ کرکے صنعتوں اور زراعت میں پانی کے غیر ضروری استعمال کو روک کرپانی کے بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے اور پاکستان کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے.

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button