ہزارہ

ایم پی پی کے تاریخی مظاہرے کی جھلکیاں۔۔مظاہرے میں بہت بڑی تعداد میں خواتین، بزرگ، نوجوانوں، محنت کشوں، تاجر برادری، وکلاء، فنکاروں، عوام، سماجی رہنماؤں، ہیومن رائٹس کے نمائندوں نے شرکت کی

میری پہچان پاکستان، دہشت گردی نا منظور۔۔۔بڑی تعداد میں مظاہرین قومی پرچم اور ڈاکٹر عشرت العبادخان، آرمی چیف اور قائد اعظم محمد علی جناح کی تصاویر لے کر موجود تھے


کراچی   1۔تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے دس بجکر بیس منٹ پر ہوا۔ نعت رسول مقبول ﷺ بھی پیش کی گئی۔ 1۔مظاہرے میں بہت بڑی تعداد میں خواتین، بزرگ، نوجوانوں، محنت کشوں، تاجر برادری، وکلاء، فنکاروں، عوام، سماجی رہنماؤں، ہیومن رائٹس کے نمائندوں نے شرکت کی۔ 2۔مظاہرین نے جو پلے کارڈز لے رکھے تھے اس پر درج تھا۔ پاکستانی قوم افواج پاکستان کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر کھڑی ہے۔ پاکستان زندہ باد۔۔۔میری پہچان پاکستان، دہشت گردی نا منظور۔۔۔بڑی تعداد میں مظاہرین قومی پرچم اور ڈاکٹر عشرت العبادخان، آرمی چیف اور قائد اعظم محمد علی جناح کی تصاویر لے کر موجود تھے۔ پاکستانی پرچم سب سے اونچا تھا۔ پاک فوج اندہ باد۔۔بھارت مردہ باد۔۔۔۔۔نعرہ تکبیر اللہ اکبر۔۔۔۔پاکستان زندہ باد۔۔۔۔کے بینرز اور نعرے لگ رہے تھے۔3۔ روحانی پیشوا شاہ صاحب عرف (ابا جی سرکار) نے خصوصی طور پر شرکت کی، انہیں مہمان خصوصی کا درجہ دیا گیا۔ 4۔ایک معزور شخص کرسی پر براجمان تھا اور پاکستان زندہ باد۔۔ پاک فوج زندہ باد۔۔۔دہشت گردی نا منطور کے نعروں پر ری ایکشن دے رہا تھا۔ جو آخر وقت تک موجود رہا۔ 5۔ڈاکٹر عشرت العباد کے خطاب سے قبل قومی یکجہتی کے لئے قومی ترانہ ملکر پڑھا گیا۔ 6۔ڈاکٹر عشرت العباد جیسے ہی اسکرین پر نظر آئے عوام میں مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ انہوں نے 11.40سے12.10منٹ اتوار اور پیر کی درمیانی شب انتہائی فکر انگیز خطاب کیا۔ 7۔ ایم پی پی کی مرکزی کمیٹی نے عام ورکرز کی طرح کام کیا اور نظم وضبط کے ساتھ پورے پروگرام کو سنبھالا۔8۔ جعفر ایکسپریس کے سانحہ کے بعد کراچی اور حیدر آباد میں ہونے والا دہشت گردی کے خلاف اور افواج پاکستان سے یکجہتی کے لئے سب سے بڑا مظاہرہ تھا جس میں رات گئے کے باوجود الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا۔ یو ٹیوبرز اور بڑی تعداد میں صحافیوں نے شرکت کی۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button