خیبر پختنخواہ کے چیف سیکرٹری نے 20 سالوں سے تعینات سفارشی ٹولے کے تبادلے کر ڈالے کیا ائی جی خیبر پختون خواہ بھی ان پولیس اہلکاروں کا تبادلہ کریں گے جو پولیس لائن اور سی پی او میں بیٹھے اپنی کرسیوں کا مزہ لے رہے ہیں ؟؟؟؟
اسلام اباد چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ نے تعیناتی کے ساتھ ہی جو اعلانات کیے ان پر عمل درامد شروع ڈیڑھ ہزار سے زیادہ سرکاری ملازمین کے تبادلے کر دیے اور دو سالہ پالیسی نافذ کی فہرست ہے مرتب کر کے جاری کی ان میں وہ ملازمین ہے جو عرصے 20 سال سے عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے تھے ڈیڑھ ہزار ملازمین ہیں جن میں 18 اور 19 گریڈ کے 60 افسران 50 ایڈیشنل کمشنر 75 سپریڈنٹ شامل ہیں اسی طرح دیگر پلاننگ میں بھی کئی سیکشن افسروں کو تبدیل کیا گیا اسی طرح خیبر پختونخواہ کی پولیس میں بھی عرصے 20 25 سال سے سی پی او پولیس لائن پشاور اور خیبر پختنخواہ کی مختلف اضلاع میں ار پی او اور ڈی پی اوز کہ دفاتروں میں سرکاری دفتروں اور گھروں پر قبضہ کیے رکھا ہے اور ان کو اپنی جگہ سے کوئی ہلا نہیں سکتا سی پی او میں ایسے ٹیلی فون اپریٹر ہیں جنہوں نے اپنے نام پر کئی گھروں کو الاٹ کیا اور ایک ہی سیٹ پر براجمان ہے پولیس لائن پشاور میں بھی قبضہ گروپ تعینات ہے اور اج تک ان کو کوئی تبدیل کرنے کی جرات نہیں کر سکتا ائی جی خیبر پختون خواہ کو چاہیے ان تمام ( قبضہ گروپ ) پولیس اہلکاروں کی لسٹیں منگوائی جائے تاکہ ان کو بھی مختلف جگہوں پر بھیجا جائے یہ وہ ملازمین ہیں جن کے ٹھاٹ باٹ شاہانہ ہے کئی گاڑیوں اور کوٹھیوں کے مالک بن بیٹھے ہیں کیونکہ یہ افسروں کے ساتھ ڈیوٹیاں کرتے ہیں اور انکوائریوں اور تبادلوں کی اڑ میں پولیس کہ بعض اہلکاروں کو مختلف طریقوں سے لوٹتے ہیں ایسا ہی گروپ پولیس لائن پشاور میں بھی ہے


