ہزارہ

کراچی کی حالت زار پر رحم کیا جائے۔ گراں فروشی کراچی کی سڑکیں، ابلتے گٹر اور پانی و گیس کی فراہمی میں تعطل

بجلی اور گیس کی بلا جواز بندش اور صرف حکومت اور ٹاؤنز چیئرمین پارکوں اور تفریحی سرگرمیوں تک محدود ہیں۔

کراچی  کراچی تنظیمی کمیٹی ایم پی پی نے کہا ہے کہ حکومت سندھ اور میئر کراچی سمیت بلدیاتی اداروں کے چیئرمین کراچی کی حالت زار پر رحم کریں۔ مسلسل ڈمپرز۔ ٹنکرز اور ٹرکوں کی زد میں آکر شہریوں کی ہلاکت کی ذمہ دار بیڈ گورننس ہے۔ سڑکیں ابتک بننا شروع نہیں ہوئیں۔ صرف پیپلز پارٹی اپنے علاقوں میں اور جماعت اسلامی اپنے علاقوں میں کام کر رہی ہے۔ کنٹومنٹ کی سڑکیں بھی کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں۔گراں فروشی کی روک تھام کی جائے۔ کراچی کی سڑکیں، ابلتے گٹر اور پانی و گیس کی فراہمی میں تعطل، بجلی اور گیس کی بلا جواز بندش اور صرف حکومت اور ٹاؤنز چیئرمین پارکوں اور تفریحی سرگرمیوں تک محدود ہیں۔ عوام کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں بلدیاتی ادارے ناکام ہیں۔ کے ایم سی میں مقامی افسران کو مقامی ہونے کی سزا دی جا رہی ہے۔ ایس سی یو جی افسران کی بھرمار سے کونسل افسران اور ملازمین کی حق تلفی ہو رہی ہے۔ گیس کی لوڈ شیڈنگ بند کی جائے۔ رمضان میں عوام کی اذیت سے یہ ادارے گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ کراچی تنظیمی کمیٹی ایم پی پی پی کے اراکین نے کہا کہ پاکستان کی ترقی ہمارا مشن اور ملک وریاستی ادارے ہماری ریڈ لائن ہیں۔ یہی سوچ سندھ حکومت کی بھی ہونی چاہئے۔ لسانیت کا مظاہرہ اداروں اور عوام میں نفرت کا سیلاب لاتا ہے۔ سندھ میں 17سال سے ایک ہی جماعت کی حکومت ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد سارے اختیارات صوبہ کے پاس ہیں لیکن 90فیصد صوبہ کراچی سے ٹیکس لینے کے باوجود کراچی پر خرچ نہیں کر رہا۔ کراچی کی تباہ حال سڑکیں اپنی داستاں خود سنا رہی ہیں۔ ہم وزیر اعلی سندھ، وزیر بلدیات، میئر کراچی اور گورنر سندھ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ کراچی میں جنگی بنیادوں پر سڑکوں کی تعمیرکی جائے۔ رمضان میں گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ بند کی جائے۔ سیوریج اوور فلو کو درست اور کے ایم سی میں سیاسی بنیادوں پر معطل افسران اور ملازمین کو بحال کیا جائے کے ایم سی میں ترقیوں کے لئے جعلسازیوں اور جعلی بھرتیوں کے خلاف تحقیقاتی کمیٹی اعلی سطح پر بنائی جائے۔ کراچی کے عوام کو گراں فروشی سے نجات دلائی جائے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button