
تھل یونیورسٹی بھکر کے ڈیپارٹمنٹ آف انگلش کے زیر اہتمام اے آئی کے دور میں زبان پر پہلا بین الاقوامی تحقیقی سمپوزیم منعقد ہوا ۔جس میں ملک اور بیرون ملک سے ماہرین تعلیم نے شرکت کی سمپوزیم میں تھل یونیورسٹی کے تمام شعبہ جات سمیت دیگر تعلیمی اداروں کے طلباء کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔سمپوزیم کا آغاز تلاوت کلام پاک اور نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا گیا۔ ہیڈ آف انگلش ڈیپارٹمنٹ تھل یونیورسٹی بھکر ارم جمیل نے تمام شرکاء اور ماہرین تعلیم کا شکریہ ادا کیا اور کہا کے وائس چانسلر تھل یونیورسٹی بھکر ڈاکٹر سعید احمد بزدار کی سرپرستی میں تھل یونیورسٹی نا صرف اپنی یونیورسٹی کے طلباء بلکہ دیگر تعلیمی اداروں اداروں کے طلباء کو بھی اس طرح کے علمی وتحقیقاتی مواقع فراہم کرتے رہیں گے۔ سیموزیم کے دوران یونیورسٹی آف اوتارا ملائیشیا پروفیسر ڈاکٹر مینمندر کور ،سرجیت سنکھ ، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے چئیرمین انگلش ڈیپارٹمنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد عاصم محمود رفاع یونیورسٹی کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر راشد محمود ،صادق وومن یونیورسٹی بہاولپور کی ڈین فیلٹی آف آرٹس پروفیسر ڈاکٹر مسرت اظہر سمیت دیگر ماہرین تعلیم نے اپنے تحقیقاتی مقالہ جات پیش کیئے۔ مقررین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کے اس وقت آرٹیفیشل انٹیلجنس دنیا کے ہر شخص کی دسترس میں ہے اور جہاں مصنوعی ذہانت نے زندگی کے ہر شعبہ میں اہمیت اختیار کر لی ہے وہیں پر شعبہ ء تعلیم میں آرٹیفیشل انٹیلجنس آنے والے دور میں بہت سی تبدیلیاں لائے گی اور انقلابی تبدیلیوں کے لیئے طلباء کو تیار کیا جانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا تھا کہ اے آئی جہاں پہلے سے بولی اور سمجھی جانے والی زبانوں میں تبدیلیاں آنے والے دور میں لائے گی یہ بھی گمان ہے کہ آنے والے دور میں اے آئی نئی زبانوں کی ایجاد کا باعث بھی بننے گی ۔اس لیے طلباء کا آنے والی ان تبدیلیوں کے لیئے خود کو تیار کرنا ضروری ہے ۔ماہرین تعلیم کا کہنا تھا کہ اس سے قبل کمپیوٹنگ میں کوئی بھی کام لینے کے لیئے آپ کو مخصوص زبان طریقہ کار اور کوڈز آنا چاہیے تھے مگر آج اے آئی نے جنریٹو اے آئی نے اس چیز کو یکسر بدل دیا ہے ۔جس میں آپ اپنی زبان دی گئی ہدایت پر فوری جواب پاتے ہیں ماہرین تعلیم کا کہنا تھا کہ طلباء کو زبانوں کے ساتھ ساتھ جدید دور میں آنے والی تبدیلیوں کے لیئے خود کو تیار کرنا ہو گا ۔اس دوران سوالوں جواب کی بھی نشست ہوئی جس میں طلباء نے ماہرین تعلیم سے سوالات کئے۔ تقریب کے آخر میں وائس چانسلر تھل یونیورسٹی بھکر پروفیسر ڈاکٹر سعید احمد بزدار نے کہا کہ تھل یونیورسٹی کے طلباء کو آئندہ دور کے لئے ہر اعتبار سے معلومات اور تربیت کی فراہمی کو اپنا فرض سمجھتا ہوں اور بھکر میں پہلے بین الاقوامی تحقیقاتی سیموزیم کا انعقاد تھل یونیورسٹی کی بہت بڑی کامیابی ہے ۔ڈاکٹر سعید احمد بزدار کا کہنا تھا کہ تھل یونیورسٹی کو صف اول کی یونیورسٹی بنانا ایک خواب ہے جسے پورا کرنے کے لیئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کروں گا۔ اُن کا کہنا تھا کہ طلباء میں تعلیمی ، تحقیقی اور خود اعتمادی صلاحتیوں کو بڑھانے کے لئے ہر شعبہ پر توجہ دے رہے ہیں ۔ڈاکٹر سعید احمد بزدار کا کہنا تھا کہ تھل یونیورسٹی میں تمام شعبہ جات میں جدت لارہے ہیں۔ اس سلسلہ میں عالمی تعلیمی اداروں ماہرین سے روابط کو بڑھایا جارہا ہے تاکہ سیلبس میں بھی جدید تبدیلیاں لائی جا سکیں۔ ڈاکٹر سعید احمد بزدار کا کہا تھا کہ جلد یونیورسٹی میں جاری تمام کورسز میں اے آئی کے حوالے سے ضروری معلوماتی پروگرامز کو شامل کردیا جائے گا ۔وائس چانسلر نے غیر ملکی اور ملکی ماہرین تعلیم کا شکریہ ادا کیا کہ وہ اُن کی دعوت پر سفر کر کے طلباء کی رہنمائی کے لئے پہنچے ۔انہوں نے سیموزیم کی آرگنائزر ہیڈ آف انگلش ڈیپارٹمنٹ ارم جمیل اور اُن کی ٹیم کو بھی مبارک باد پیش کی۔ سمپوزیم میں شریک طلباء نے پروگرام کے انعقاد پر خوشی کا اظہار کیا اور طلباء کا کہنا تھا کہ ان کو اس پروگرام میں بہت کچھ سیکھنے کو ملا ایسے پروگرامز کا انعقاد آنے والے دور میں بھی جاری رہنا چاہیے ۔بعد ازاں طلباء میں سرٹیفیکیٹس اور آرگنائزرز میں شیلڈز تقسیم کی گئیں جبکہ وائس چانسلر تھل یونیورسٹی ڈاکٹر سعید احمد بزدار نے ملکی و غیر ملکی ماہرین تعلیم کو یادگاری سوئینئرز پیش کئے۔


