کالمز

تیرے اعمال سے ہے تیرا پریشان ہونا

تحریر۔۔۔۔۔۔۔بنت حوا

ارشاد باری تعالٰی ہے
ۗ وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَتّـٰى يُؤْمِنُـوْا ۚ وَلَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيْـرٌ مِّنْ مُّشْرِكٍ وَّلَوْ اَعْجَبَكُمْ ۗ
اور مشرک مردوں سے نکاح نہ کرو یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں، اور البتہ مومن غلام مشرک سے بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں اچھا ہی لگے
دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے
«لَا هُنَّ حِلٌّ لَّهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّوْنَ لَهُنَّ» [ 60۔ الممتحنہ: 10 ] ‏، نہ کافر عورتیں مسلمان مردوں کے لیے حلال نہ مسلمان مرد کافر عورتوں کے لیے حلال
تھانہ سٹی چکوال کی ایک ایف آئی آر نظر سے گزری جس کا متن تھا
مدعی مقدمہ اشرف ٹاؤن کی رہائشی ہیں اور انھوں نے کرسچیئن کالونی کے رہائشی ایک مرد سے شادی کی۔ایف آئی آر کے متن کے مطابق ملزم نے اس سے پہلے ایک مسلم خاتون سے شادی کی تھی اور 19 جولائی 2017 کو اس خاتون کو طلاق دے دی 3 جون 2018 مدعی مقدمہ کے ساتھ اس نے نکاح کیا شادی کے 6 سال بعد اب ملزم بولتا ہے وہ کرسچیئن ہے اور اس نے اس عورت سے نکاح نہیں کیا
جیسے ہی میڈیا کے ایک بھائی نے ہمیں ایف آئی آر بھیجی ان خاتون کا موقف لینے کو کال کی
انھوں نے بتایا کہ ملزم کے ساتھ ان کی پسند کی شادی تھی اور پہلے وہ تمام اخراجات پورے کرتا رہا لیکن اس نے نکاح رجسٹر سے منع کیا کہ اس کی والدہ ناراض ہوں گی جب نکاح رجسٹر کروایا اور نادرہ آفس سے اس کو معلوم ہوا کہ وہ کرسچین ہے اس کے نام سے اسکا آئی ڈی کارڈ نہیں بن سکتا

اس ایف آئی آر سے ہمارے معاشرے میں دین سے دوری کا پہلو تو نظر آتا ہے۔چھوٹی چھوٹی بات پر طوفان اٹھانے والے مولوی صاحبان کا کردار بھی تضاد کا شکار نظر آتا ہے
ایک عیسائی شخص دو مرتبہ مسلم خواتین سے نکاح کرتا ہے اس سے بہت سے سوالات اٹھتے ہیں نکاح خواں مولوی صاحب نے اس شخص کا نکاح آئی کارڈ دیکھے بنا پڑھا دیا؟
اگر دیکھا تو نادرہ ریکارڈ جس کی تصدیق ہم خود کر چکے ہیں کے مطابق وہ عیسائی ہے تو مسلم خواتین کا نکاح ایک اہل کتاب سے اس نے کیسے پڑھایا ؟ قرآن وسنت کے مطابق یہ نکاح جائز ہی نہیں تھا تو نکاح کیسے ہوا؟ گواہان جو نکاح میں شامل تھے انھوں نے تصدیق کرنا ضروری نہیں سمجھا؟
اور وہ بیبیاں جنھوں نے نکاح کیا وہ اس کے نان مسلم ہونے سے واقف تھیں کیا ؟ پہلی مسلم خاتون کو طلاق کی وجہ یہ بتائی گئی کہ اس نے گن پوائنٹ پر نکاح کیا
نکاح خواں چاہے وہ کورٹ کے ہوں یا کسی مسجد کے امام انھوں نے نکاح کرواتے وقت دونوں فریقین سے تصدیق نہیں کی؟
نادرہ ریکارڈ کے مطابق وہ عیسائی ہے اور مسلم خاتون سے اس-کا نکاح ہوا ہی نہیں تو 6 سال جو مکروہ نکاح میں وہ رہے اس گناہ کا حصہ دار کون کون؟
کیونکہ امت اسلام کے علماء کرام اور فقہاء عظام اس بات پر متفق ہیں کہ مسلمان عورت کسی بھی غیر مسلم مرد سے شادی نہیں کر سکتی، چاہے وہ مرد اہلِ کتاب یعنی یہودیوں یا عیسائیوں میں سے ہو، چاہے مشرک یا دہریہ ہو جس کا کوئی دین نہیں ہوتا
اور نبی اکرم ﷺ کی احادیث مبارکہ میں آیا کہ مسلمان مردوں کیلئے کتابی عورتوں سے شادی کرنا جائز ہے مگر کتابی مردوں کیلئے مسلمان عورتوں سے شادی کرنا جائز نہیں اورمسلمان عورت کیلئے غیر مسلم مرد کی عصمت میں رہنا جائز نہیں ہے، اور اللہ تعالی سورتِ ممتحنۃ میں فرماتا ہے : ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ اللهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِهِنَّ فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلَى الْكُفَّارِ لَا هُنَّ حِلٌّ لَهُمْ وَلَا هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ وَآتُوهُمْ مَا أَنْفَقُوا وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ﴾ [الممتحنة: 10]. یعنی: اے ایمان والو ! جب آئیں تمہارے پاس مومن عورتیں ہجرت کر کے تو ان کی جانج پڑتال کر لو اللہ خوب جانتا ہے ان کے ایمان کو۔ پس اگر تمہیں معلوم جاۓ کہ وہ مومن ہیں تو انہیں کفار کی طرف مت واپس کرو نہ وہ حلال ہیں کفار کیلئے اور نہ وہ (کفار) حلال ہیں مومنات کیلئے اور دے دو کفار کو جو مہر انہوں نے خرچ کیے اور تم پر کوئی حرج نہیں کہ تم ان عورتوں سے نکاح کر لو جب تم انہیں ان کے مہر ادا کر دو
چکوال جیسے ضلع میں ایک ہی ناں مسلم کا مسلم خواتین سے نکاح سوالیہ نشان ہے اور قصور وار وہ مرد ہی نہیں وہ بیبیاں اور گواہان و نکاح خواں بھی گناہ میں برابر کے شریک ہیں
ایسے ہی تو نہیں کہا جاتا
تیرے اعمال سے ہے تیرا پریشان ہونا
ورنہ مشکل نہیں مشکل کا آسان ہونا
پورے عالم پر ہو حکومت ہو تیری اے مسلم!
تو سمجھ جائے اگر اپنا مسلمان ہونا
سوچئے گا ضرور اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button