ہزارہ

پاکستان ایگریکلچر اینڈ ہارٹیکلچر فورم کے پریذیڈینٹ شیخ امتیاز حسین کا وزیر اعظم میاں شہباز شریف کو خط

پاکستان میں وفاقی اور صوبائی سطح پر 40 سے زائد اقسام کے ٹیکس موجود ہیںٹیکسز کے فرسودہ نظام کو تبدیل کر کے سادہ ون ونڈوٹیکس نظام متعارف کروانا وقت کی اہم ضرورت ہے شیخ امتیاز حسین

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاکستان ایگریکلچر اینڈ ہارٹیکلچر فورم کے پریذیڈینٹ شیخ امتیاز حسین نے وزیر اعظم میاں شہباز شریف کو خط لکھا ہے جس میں حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ٹیکس کا متفقہ نظام نافذ کر کے پاکستان کی معیشت کی بحالی کو ترجیح دے انہوںنے کہا کہ عالمی دنیا وہ صرف ایک قسم کا ٹیکس وصول کرتے ہیں جو ایک مرحلے پر تمام اقسام کا احاطہ کرتا ہے لیکن پاکستان میں وفاقی اور صوبائی سطح پر 40 سے زائد اقسام کے ٹیکس موجود ہیںٹیکسز کے فرسودہ نظام کو تبدیل کر کے سادہ ون ونڈو ٹیکس نظام متعارف کروانا وقت کی اہم ضرورت ہے شیخ امتیاز حسین نے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پاکستان میں ٹیکسوں کی موجودہ پیچیدگی، متعدد مختلف ٹیکس ڈھانچوں کے ساتھ، کاروباری اداروں اور افراد میں الجھن اور خوف پیدا کرتی ہے یہ پیچیدگی تعمیل کی حوصلہ شکنی کرتی ہے اور معیشت میں مجموعی شراکت کو کم کرتی ہے ان چیلنجوں پر قابو پانے کے لیے سادہ ٹیکس نظام متعارف کروانے کی ضرورت ہے جس سے ویلیو ایڈڈ ٹیکس (VAT) جو ٹیکس کے عمل کو زیادہ شفاف، موثر اور ٹیکس دہندگان کے لیے سمجھنا آسان بنا ہو سکے گا انہوں نے کہا کہ عرب امارات اور یورپی ممالک میں VAT کے کامیاب نفاذ سے نہ صرف ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہوگا بلکہ ملکی معیشت بھی تیزی سے ترقی کر ے گی اور سادہ ٹیکس نظام اپنا کر پاکستان اپنے ٹیکس ڈھانچے کو بہتر بنا سکتا ہے اور معاشی ترقی میں حصہ ڈال سکتا ہے شیخ امتیاز حسین نے خط میں ملک کی معاشی خوشحالی کے لیے بڑے پیمانے پر صنعت کاری کو فروغ دینے کی ضرورت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکومتی ادارے کاروباری افراد کو ہراساں کرنے یا روکاروٹیں پیدا کرنے کے بجائے زیادہ سے زیادہ سہولیات اور مراعات فراہم کریں تا کہ ملک ایشیئن ٹائیگر بن کر دنیا کے نقشے پر ابھرے کیونکہ اگر صنعتکاروں اور تاجروں کو ٹیکسز وصول کرنے اور دیگر طرح سے ہراساں کیا جاتا رہے گا تو وہ اپنا کاروبار پروسی ممالک منتقل کر سکتے ہیں جس سے ملکی معیشت کو بڑا دھچکا پہنچے گا انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت وہ واحد حکومت ہو جو ملکی ترقی کے لئے معیشت کو مستحکم کرنے پر سب سے زیادہ تو جہ دے رہی ہے جس سے نہ صرف غیر ملکی قرضوں کا بوجھ کم ہو رہا ہے بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہو رہا ہے شیخ امتیاز حسین نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے جامع اور موثر حکمت عملی اپنانا ضروری ہے جس میں زراعت، صنعت اور آئی ٹی جیسے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دیا جائے تا کہ روزگار کے مواقع بڑھ سکیں اور ملکی پیداوار میں اضافہ ہو جبکہ برآمدات کو بڑھانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور معیاری مصنوعات پر توجہ دی جائے انہوں نے کہا کہ کرپشن کے خاتمے اور شفاف نظام کے قیام سے معیشت میں استحکام لایا جا سکتا ہے چھوٹے کاروباروں اور نوجوانوں کے لیے قرضے اور تربیت کے مواقع بھی فراہم کرنا ضروری ہیں تاکہ معیشت کی ترقی میں ان کا کردار شامل ہو.

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button