آج کے کالمزکالمز

مہمان کیا سوچیں گے!!

تحریر۔۔۔۔۔۔۔ مریم شاہین

خوشحالی کسی بھی فرد یاقوم کا بنیادی حق ہے یا بنیادی حقوق تک پہنچنے کی سیڑھی ہے ۔ بچپن سے سنا ہے اور سمجھا ہے کہ مہمان اللہ کی رحمت ہیں اپنا اور میزبان کا رزق لے کر آتے ہیں گھر میں موجود گند اور کباڑ کو صاف ستھری چادر سے ڈھب دیا جاتا ہے اور میزبان کے گھر کے افراد چاہے لاکھ گلے شکوے اور لڑ ا ئیا ں لڑ رہے ہوں۔ وہ اپنے ذاتی اِختلافات کو تھوڑی دیر کے لیئے پس پست ڈال کر یک جہتی سے مہمان کا استقبال کرتے ہیں تاکہ مہمان پر میزبان کی فراست ، فراخ دلی اور ذہانت کا رعب و دبدبہ پڑے اور وہ مہمان کی خوش اخلاقی کا چرچا جہاں جہاں جائے کرے۔
اِس چرچے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ بغیر کسی خرچےکے میزبان کی خصوصیات کی تشحیر ہو جاتی ہے اور دوسرے سننے والے بھی ایسے میزبان سے دوستی کرنا چاہتے ہیں اور ان کی مہمان نوازی کا لطف اٹھانا چاہتے ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ میزبانی اور مہمان نوازی کا رشتہ باہمی معاشی خوشحالی کا زینہ بن جاتا ہے-
پاکستان جیسے ترقی کی دوڑ میں شامل ممالک کے لیئے میزبانی کے فرائض کوانجام دینا ناصرف اخلاقی و معاشرتی تقاضوں کے لحاظ سے نا گزیر ہے بلکی ہماری معاشی مسائل اور ضرویات بھی یہ لازم قرار دیتے ہیں کہ ہم اپنی ترقی کے لیئے گھر کے اندرونی مسائل خواہ کتنے بھی پہاڑ جتنے ہوں ان کوچادر سے ڈھانپ کر اپنے مہمانوں کا استقبال کریں تاکہ حکومت کی ملک میں معاشی استحکام لانے کی کوشیش بغیر رکاوٹ کے پایہ تکمیل تک پہنچ پائیں۔ بیلا روس کے صدر ایلیگزینڈرلوکا شینکو نے آٹھ سال کی طویل مدت کے بعد پاکستان کا دورہ کیا ہے اور یہ دورہ اِس لیئے بھی اہم تھا کہ ان کے وفد میں اہم کاروباری شخصیات اور سرمایہ کار بھی تھے۔ ان کی اِس دعوت کامقصد پاکستان کی معاشی ترقی کومزید بہتر کرنا تھا اور ایک عام آدمی کی زندگی میں خوشحالی کے پہیے کو بہتر بنانا تھا -اس دورہ سے پاکستان اوربیلا روس کے 30 سالہ سفارتی تعلقات کو بھی تقویت پہنچی ہے۔
اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان زراعت ،تجارت اور دیگر شعبوں میں دوطرفہ حتمی معاہدوں اور مفاہمتی یا داشتوں پر فروری2025 میں دستخط متوقع ہیں لیکن میں یہ سوچ کر پریشان ہوں اور میرا یقین ہے کہ ہر ذی شعور یہ سوچ کر پریشان ھوگا کہ ملک کی ایک بڑی جماعت کی ناسمجھی کی وجہ سے ہمارے مہمان ہمارا کیا چرچا کریں گے۔ ہمارے مہمان ہمیں غیر مہذب سمجھیں گے کہ بے عقل جو اپنے گھر آئی ہوئی نعمتوں کو کچلنے کے لیئے اپنی اپنی ڈیرھ انچ کی مسجد بنا کر اور اپنے سارے عیبوں کے ساتھ وضعداری کی چادرکے بغیر اپنے گھر کوبدنام کرنے پر باضد قوم ہیں۔ ذرا سوچئے کہ ہمیں بحثیت قوم کیا کرنا ہے۔ گند کو اچھالنا ہے یا۔۔۔۔۔۔ہمارا حال تو اس مہمان نواز کا سا ہو گیا ہے جو گھر آئے مہمان کو زحمت سمجھ کر بھگانا چاہتا ہو۔ ذرا سوچئے کہ مہمان ہمارے گھر کے بارے میں کیا سوچئیں گے؟ ‎<This message was edited>

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button