بیلاروس کا نام ذہین میں
آ تے ھی ٹریکٹر کی تصویر ذہن میں ابھر آتی ہے ۔ جو پاکستان کی سڑکوں پر نظر آ تے تھے اور اب بھی ھیں بیلاروس کے ٹریکٹر مضبوطی اور پائیدار ی میں اپنی مثال آپ ہیں اور پاکستان میں بڑے مقبول بھی ھیں ۔مقامی مارکیٹ میں ان کی طلب بہت زیادہ ہے ۔ گو مجموعی طور پر پاکستان اور بیلاروس کے تعلقات کی نشوونما سست روی کا شکار رہی اس کی بڑی وجہ ھمارے سفارت خانے کی عدم موجودگی بھی تھی۔ مئی 2015 میں صدر بیلاروس کے دورے سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی گرم جوشی کی ابتدا ء ھوئی۔ یہ دورہ ایک کامیاب دورہ تھا۔ جس میں دونوں ممالک کے درمیان تقریباً دو درجن سے زائد باہمی اشتراک کے معاہدوں اور مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط ھوئے تھے ۔ اس وقت بھی حکومت مسلم لیگ (ن) کی تھی ۔ پاکستان میں موجودہ حکومت بھی مسلم لیگ (ن) کی ھے۔ کسی بھی ملک میں براہِ راست سرمایہ کاری اس بات کی علامت ھے کہ بیرونی دنیا اس ملک کی معیشت کو سرمایہ کاری کے لئے ایک قابل قدر جگہ سمجھتی ہے ۔اور یہ اس ملک کی معیشت کے لئے ایک مثبت اشارہ ھے۔
بیرونی سرمایہ کاری کے لئے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی کاوشیں قابل تعریف ہیں ۔ حال ہی میں بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کی قیادت میں 68 رکنی اعلیٰ سطح کے وفد نے پاکستان کا دورہ کیا ۔اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس سطح پر 8 مفاہمتی یاداشتوں اور معاہدوں پر دستخط ھوئے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سرحدوں کے پار تجارت میں ھی ملکی معیشت کی مضبوطی اور دو طرفہ تعلقات کا فروغ مضمر ہے ۔ بلاشبہ حالیہ دورے کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید فروغ ملے گا جو ملکی معیشت کے لئے یقیناً ایک اھم پیش رفت ہو گی۔
بیلاروس کے صدر کا دورہ ایک مشکل حالات میں ھوا ھے ایک طرف تحریک انصاف کی منفی اور احتجاجی سیاست اور دوسری طرف دشمنوں کی شازشیں تھیں ۔احتجاج کا حق ایک بنیادی حق ہے دوسرے مہذب معاشروں کی طرح آ ئین پاکستان کا آ رٹیکل 16 بھی یہ حق پاکستان کے ھر شہری کو دیتا ہے ۔ارٹیکل 16 کے تحت ہر شہری کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنا یہ حق قواعد و ضوابط کے اندر استعمال کرے۔ بدقسمتی سے تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست نے وطن عزیز کا ہمیشہ نقصان ھی کیا ہے ۔ پہلے 2014 میں چائنہ کے صدر کی آ مد پر جب وہ سی پیک کا تحفہ لائے تھے تحریک انصاف کا دھرنا ، او۔ آ ئی۔ سی تعاون تنظیم کے اجلاس کے دوران تحریک انصاف کا دھرنا اور احتجاج ،اور اب بیلاروس کے صدر کی آ مد پر ایک بار پھر وہی دھرنا اور احتجاج ۔
یہ بات قابل ستائش ھے کہ موجودہ حکومت نے ان مشکل حالات میں نہایت دانشمندی سے اس دورے کو کامیاب بنایا ہے تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے مبارک باد کے مستحق ہیں ۔
ایک اور مثبت اور اچھی خبر سٹاک ایکسچینج کے حوالے سے ھے جہاں پر ایک مثبت اور تیزی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے ۔ کے۔ ایس۔ سی 100 انڈیکس 813.52 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 100082.7 پوائنٹس پر بند ہوا جو کہ ایک نیا ریکارڈ ریکارڈ اور ملکی معیشت پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کا مظہر ہے معاشی سلامتی اور قومی سلامتی کا چولی دامن کا ساتھ ھے ۔ سیاسی استحکام وقت کی ضرورت ہے ۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ھم ابھی تک دور جدید کے تقاضوں کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔
احتجاج کے لیے مہذب معاشروں نے ھائیڈ پارک اور میڈیا سٹی وغیرہ بنا رکھے ہیں
اسلام آباد اور بڑے شہروں کے قریب ھم بھی ھائیڈ پارک اور میڈیا سٹی وغیرہ بنا کے احتجاج کے لیے قواعد و ضوابط تشکیل دے کر شہریوں کے لیے
آ سانیاں پیدا کر سکتے ہیں ۔ احتجاج کی آ ڑ میں ملکی سلامتی اور معیشت پر کوئی قدغن نہیں لگنی چاہیے ۔
تحریک انصاف کا موجودہ احتجاج بھی لاحاصل ، بے موقع اور بے مقصد تھا ۔ جس کو قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے بڑے دانشمندانہ اور مدبرانہ انداز سے نمٹا ھے۔ حکومت وقت کو اس منفی اور احتجاجی سیاست کا کوئی مستقل اور دیرپا حل سوچنا ھو گا۔ تحریک انصاف کو بھی ھوش کے ناخن لینے ھوں گے اور سمجھنا ھو گا کہ ملکی مفادات برحال سیاسی مفادات سے مقدم ھیں ۔ مزاکرات کی میز ھی تمام مسائل کا حل تلاش کر سکتی ھے ۔ تمام فریقین کو مل بیٹھ کر اپنے سیاسی مسائل کا حل تلاش کرنا ھوگا ۔اج حکومت کی بہترین معاشی پالیسیوں کی وجہ سے اگر سٹاک ایکسچینج ریکارڈ بنا رہی ھے تو دوسری طرف معاشی اعشاریو ں میں بہتری عوام کے لیے فائدہ مند ہوگی ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ترقی کا یہ سفر جاری و ساری رہنا چاہیے ۔ منفی سیاست کے بجائے مثبت اور تعمیری سیاست کو فروغ دے کر ملک میں سیاسی استحکام لایا جائے ۔ جو کہ قومی سلامتی اور معاشی استحکام کے لیے از حد ضروری ہے ۔
تنویر احمد۔ لاہور



