
ایسی بھی کوئی شام ہے جس کی سحر نہ ہو۔ بچپن سے جب کسی بیمار کو دیکھتی یا خود بیمار پڑتی تو ایک انجاناسا خوف مجھ پر طاری ہو جاتا کہ شاید تندرست نہ ہوسکوں گی۔ موت کا خوف میری تمام صلاحیتوں پر حاوی تھا۔ میری عمراس وقت 38برس ہے اور مجھے 2023میں ایک ایسی بیماری نے آگھیرا جس کا نام سنتے ہی مضبوط اعصاب والے بھی ڈر اور خوف کا شکار ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ میں بھی تشخیص سے قبل ہی انجانے خوف کا شکار بن چکی تھی۔جس کی وجہ سے میرے تمام تر معاملات زندگی متاثر ہونے لگے پھر ایک دن میں نے ہمت کی اور ہسپتال چلی گئی۔جہاں ابتدائی لیب ٹیسٹ کے بعدمجھے سینئر ڈاکٹر عظمیٰ عبداللہ کے پاس بھجوادیا گیا۔ ڈاکٹر عظمیٰ نہایت شفیق اور اپنے شعبے کی ماہر ڈاکٹر ہیں۔انہوں نے بہت شفقت محبت اور اپنائیت سے مجھے نفسیاتی اور ذہنی طورپر اس قدر تیار اور مضبوط کیا کہ میرے اندر کا خوف اور وسوسے یکدم ختم ہوگئے اور جب ڈاکٹر عظمیٰ عبداللہ نے مجھے کہا کہ میں تمھارے ساتھ کھڑی ہوں۔ تم نے اس بیماری (بریسٹ کینسر)سے ڈرنا نہیں بلکہ لڑنا ہے اور اسے شکست دینی ہے۔ تو مجھے بہت حوصلہ ملا۔انہوں نے اپنی نگرانی میں میرا علاج شروع کروادیا جو تاحال جاری ہے۔دیگر تمام ڈاکٹرز کا رویہ بھی میرے ساتھ بھرپور تعاون والا رہا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کینسر ایک موذی مرض ہے جس کاعلاج مہنگا اور صبرآزماہے ۔ تاہم ڈاکٹر عظمیٰ عبداللہ کی طرح کوئی مسیحا مل جائے تو بیمار کو غیب سے مدد حاصل ہونے لگتی ہے۔لہٰذا میں تمام خواتین و حضرات سے یہ کہنا چاہوں گی کہ کینسرکو بھی عام بیماری سمجھیں اس کو موت کے ساتھ نہ جوڑا جائے لاکھوں لوگ بروقت علاج سے صحت یاب ہورہے ہیں۔ کینسر کے مریض کو دوستانہ ماحول دینے سے بھی مریض جلدی صحت یاب ہو جاتے ہیں کینسر کے مریض کو نارمل سمجھیں ایسی بیماری سے ڈریں اور نہ ہی دوسروں کو ڈرائیں بلکہ ایسی بیماریوں کا بھرپور مقابلہ کریں زندگی بڑی خوبصورت چیز ہے کامیابی کیلئے بہت مشکلات اور کھٹن حالات سے گزرنا پڑتا ہے کشادہ راستے دھوپ چھاوں طوفان سے گزرکر ہی ملتے ہیں۔ایک دفعہ ایک شخص خوبصورت محل کی طرف دیکھ کر اپنے دوست سے کہنے لگا جب ان لوگوں کی قسمت لکھی جارہی تھی تو ہم کہاں تھے۔دوست اس کا ہاتھ پکڑ کر ایک ہسپتال لے گیا وہاں ہر طرح کے مریض دکھائے اور کہا کہ یہاں ایسے بھی ہیں جنہیںصرف صحت یابی کی تمنا ہے۔ دوست نے کہا دیکھو جب اللہ پاک ان کی قسمت لکھ رہا تھا تو ہم کہاں تھے یہ سنتے ہی وہ فوراً سجدے میں گراپڑا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔کہانی سمجھ آئی سب اس کی ذات کا کمال ہے۔
ہمت کر صبر کر بکھر کر بھی نکھر جائے گایقین کر شکر کر وقت ہی ہے گزر جائے گا



