قومی

گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔ 1988میں دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ 13کرتا پاجامہ پہنے اراکین قومی اسمبلی MQMکے اراکین جب قومی اسمبلی میں داخل ہوئے تو اسمبلی کے اراکین دیکھتے رہ گئے

گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔ 1988میں دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ 13کرتا پاجامہ پہنے اراکین قومی اسمبلی MQMکے اراکین جب قومی اسمبلی میں داخل ہوئے تو اسمبلی کے اراکین دیکھتے رہ گئے۔ 26اراکین سندھ اسمبلی نے سندھ اسمبلی کو حیران کردیا۔ پیپلزپارٹی سے اتحاد ہوا اور بے نظیر بھٹو وزیر اعظم بن گئیں
دوسرا حصہ۔۔۔۔۔۔رضوان احمد فکری
اقتدار میں 1987میں بلدیاتی اداروں کی کمانڈ ملتے ہی تحریک جماعت اور مطلب پرستوں کی آماجگاہ بننا شروع ہوگئی۔ جیل کی دیواریں توڑ کر بانی ایم کیو ایم کو رہا کرانے والے آفاق احمد، عامر خان کارکنان کی اتنی بڑی تعداد لے کر آئے تھے کہ جیل کی دیواریں ریت کی دیوار ثابت ہوئیں۔لیکن کیونکہ 14دسمبر1986کو قصبہ، علی گڑھ اور شاہ فہصل کالونی، وائر لیس گیٹ پر پی پی آئی سے تصادم ہوچکے تھے اور 31اکتوبر 1986کو بحیثیت جامعہ کراچی آرگنائزر ہم نے ڈرگ مافیا کوپختونوں کی شکل میں سہراب گوٹھ اور مارکیٹ چوک حیدر آباد پر کھلے عام مہاجر کارکنوں کے خون سے ہولی کھیلتے دیکھا تھا۔ اس لئے بانی ایم کیو ایم کو Safe راستے سے 90پہنچا دیا گیا تھا اور ورکرز کو جب 90پہنچنے کی ہدایت کی گئی تو سبزی منڈی اور حسن اسکوائر کے راستوں سے فائرنگ اور پتھراؤ کیا گیا جس سے متعدد ورکرز زخمی ہوئے۔ لیکن امن پسند ایم کیو ایم نے 31اکتوبر اور جیل سے رہائی کے بعد تصادم کی کوئی پالیسی نہیں دی۔ یو ٹرن جنب آیا جب پہلی بار ایک کونسلر کو 500روپے رشوت لینے پر سزا دی گئی۔ آفاق احمد اور عامر خان پارٹی میں کرپشن نہیں کرنے دیتے تھے۔ 1988میں جنرل الیکشن میں 13قومی اسمبلی کی نشستیں جیت کر ایم کیو ایم قومی سیاست میں داخل ہوئی۔ کراچی اور حیدر آباد کے بعد میرپور خاص سے قومی اسمبلی کے رکن انیس ایڈووکیٹ اور ایم پی اے فقیر محمد میمن بنے۔ دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ 13کرتا پاجامہ پہنے اراکین قومی اسمبلی MQMکے اراکین جب قومی اسمبلی میں داخل ہوئے تو اسمبلی کے اراکین دیکھتے رہ گئے۔ 26اراکین سندھ اسمبلی نے سندھ اسمبلی کو حیران کردیا۔ پیپلزپارٹی سے اتحاد ہوا اور بے نظیر بھٹو وزیر اعظم بن گئیں۔ پی پی پی کے دور میں نوکریاں، اسلحہ لائسنس اور اہم وزارتیں ملیں۔ادھر سے وہ ہوا جو Expectedنہیں تھا۔ ایم کیو ایم ان قوتوں کے ہاتھ میں کھینے لگی جو ماسٹر پلانر تھے اور ماسٹر علی، اختر رضوی، یوسف ایڈووکیٹ، ایم اے جلیل، اسلام نبی، افضال منیف، حاجی شفیق الرحمان جیسے لوگ Pajero، کی[پٹن اطہر شون گروپ 50یاماہا 80، نئی کار اور غریب جماعت کے آشیانے پر امیروں کی یلغار ہوگئی۔ہاؤسنگ ٹاؤن پلاننگ، شپنگ اور دیگر وفاقی وزارتوں کے علاوہ بلدیات اور اہم وزارتیں حصہ میں آگئیں۔ لیکن آمر غلام اسحاق خان نے IJIبنا کر محترمہ بے نظیر بھٹو کو ڈیڑھ سال میں چلتا کردیا۔ آئی جے آئی نے بانی ایم کیو ایم کو اسلام آباد اور لاہور میں اہم جلسوں میں خطاب کرایا اور انہوں نے شاہرہ قائدین پر اتنا بڑا جلسہ کرایا کہ آج تک اسکا کوئی ریکارڈ نہیں توڑ سکا۔ چوہدری شجاعت، نثار چوہدری، شیخ رشید دیکھتے رہ گئے۔ لیکن عجب کھیل انکی قدر کرنے کے بجائے انکے ذریعے حکومت بنا کر ن لیگ ایم کیو ایم کی پاور کو ختم کرنے پر لگ گئی۔ میں خود اس ساری صورتحال کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر کرچکا ہوں۔ پی پی پی سے راہیں جدا کرنا بڑی غلطی تھی۔ ن لیگ نے ایم کیو ایم کو سندھ کا بادشاہ تو بنایا لیکن ساتھ ساتھ انکی لگامیں کھینچنے کے لئے گھوڑے بھی دوڑا دیئے۔ ایم کیو ایم امن پسند جماعت تھی لیکن اسکے کارکنوں کو قتل اور جیلوں میں ڈال کر انہیں پرتشدد بنانے والے ارباب اختیار تھے۔ آج جو وی لاگ کرکے ایم کیو ایم کو Discuss کرتے ہیں وہ کہاں تھے۔ جمیل الدین عالی، احمد الطاف، رئیس امروہی، اختر رضوی اور با اختیار لوگ جب المدینہ حال میں بانی ایم کیو ایم کے ان اشعار کا نوٹس نہیں لیتے تھے۔”جب وطن تھا تو آزادیاں ڈھوندٹا تھا۔۔۔۔اب آزاد ہوں تو وطن ڈھونڈتا ہوں۔ احمد ندیم صدیقی جب ترانہ پڑھتے تھے۔ اپنوں کا ساتھ دو۔۔۔۔غیروں کا ساتھ چھوڑو اے مہاجروں۔۔۔”ہم بے زمیں ہاں بے زمیں کوئی ہمارا صوبہ نہیں۔۔۔۔”اب اپنے حق کے خاطر بڑھو۔۔۔اے مہاجرو“ جنرل محمد ضیاء الحق کے دور میں جب سیاست نا ممکن تھی۔ بانی ایم کیو ایم ہر جگہ جا کر کہتے تھے کہ ”وی سی آر ٹی وی بیچو۔۔۔۔۔اسلحہ خریدو۔۔۔۔تب ارباب اختیار کہاں تھے۔کیوں نہیں روکا؟ فیکٹری میں لیڈر تیار کرکے انہیں اپنے مقصد کے لئے استعمال کرکے کیا حاصل کیا گیا؟ مقصد صرف پیپلز پارٹی اور مزہبی جماعتوں کو خٹم کرنا تھا۔ جو کامیاب رہا۔ شاہ احمد نورانی اور جماعت اسلامی کی سیاست ماچس کی ڈبیہ کی طرح بند ہوگئی۔ یہ فائدہ بھی ہوا کہ شیعہ سنی فساد بند ہوگئے جو آج تک ایم کیو ایم، مہاجر قومی موومنٹ اپنے اپنے علاقوں میں پہرہ داری اور شرکت سے کرتی ہے۔ بانی ایم کیو ایم لاہور گئے تو صحافیوں نے ان سے درشت لہجے میں بات کی تعصب عیاں تھا لیکن لاجواب کرنے والے لیڈر نے انکے بھی دل جیت لئے۔ تو پھر جب صحیح چل رہا تھا تو کہاں سے خرابی ہوئی؟ آپکا دلچسپ سوال ہے۔ 1990میں جب MQMدوبارہ جیتی تو اشرافیہ اور برگر Familiesنے بانی ایم کیو ایم کو مہاجر نام سے دستبردار ہونے کا مشورہ دیا۔ الکرم اسکوائر کے مرکز میں اجلاس میں نام بدلنے کی منظوری لی گئی۔ لیکن آفاق احمد اور عامر خان اور انکی ٹیمیں کھل کر مخالفت پر آگئیں۔ عمران فاروق اور سلیم شہزاد نے ان کی بات پر بانی کے کان بھرنا شروع کردیئے۔ اشرافیہ اور مالا مال پارٹیز نے کہاکہ آفاق احمد اور عامر خان کا امیجTerroristکا ہے انہیں سائیڈ کریں لیکن بانی نے کہا کہ یہ میرے Rightاور leftہیں۔ عظیم احمد طارق نے بھی تائید کی۔ آفاق احمد اور عامر خان کا موقت تھا کہ مہاجر

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button