ہزارہ

حکو مت کے سرکاری فنڈز پر افسران کا ڈاکا

یبٹ آباد(نمائندہ خصوصی)ڈسٹرکٹ کنڑولرآف اکانٹس ایبٹ آباد میں راشی افسران اور ان کے کارندوں کے لئے سونے کی چڑیا بن چکا ہے۔ضلعی ترقیاتی سکیموں کے فنڈ کے اجرا پر ٹھیکیداروں سے دو فیصد کمیشن کی وصولی کا سلسلہ عروج پر ہے۔جس نے صوبائی حکومت کی پالیسی کی دھجیاں بکھیر کے رکھ دی ہیں۔زرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق صوبائی حکومت نے ایبٹ آباد کے چاروں صوبائی حلقوں کے لئے ضلعی ترقیاتی فنڈ کی مد میں 40 سے پچاس کروڑ کا فنڈ جاری کیا ہے جس سے ایبٹ آباد ،حویلیاں ،سرکل لورہ ،تناول ،سرکل گلیات میں مختلف سکیموں پر کام جاری ہے۔صوبائی وزیر مال نذیر عباسی ،ایم پی اے مشتاق احمد غنی ،افتخار خان جدون اور رجب علی عباسی کی سکیموں پر ڈسٹرکٹ کنٹرولر آف اکانٹس میں ٹھیکیداروں کو چیکوں کی منظوری میں رکاوٹیں درپیش ہیں۔دو فیصد کمیشن کی وصولی کے لئے ضلعی ترقیاتی فنڈ کو ضائع کیا جا رہا ہے۔جس سے ترقیاتی سکیموں کی شفافیت اور معیار سخت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔اس حوالہ سے عوامی حلقوں نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے منتخب ارکان اسمبلی سے عوام کے ٹیکسوں سے جمع فنڈ کے صیح استعمال کرانے کا مطالبہ کیا ہے اور وزیر اعلی خیبر پختونخوا سے شفاف انکوائری کرنے اور متعلقہ راشی افسران کو ضلع بدر کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔واضح رہے کہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی تیسرے دور کی حکومت میں ان کے منشور کی اولین ترجیح کرپشن پر قابو پانے میں ناکامی روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ایبٹ آباد میں ترقیاتی سکیموں پر ناجائز طریقوں سے ٹھیکیداروں سے ڈیمانڈ سے ترقیاتی کام ناقص میٹیریل کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں جو اپنی مدت کا ایک حصہ بھی مکمل نہیں کر سکتے اور عوام کے ٹیکسوں سے جمع پیسوں کا ضیاع بدستور جاری ہے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button