قبائلی اضلاع میں امن قائم نہیں ہوتا تو پاکستان میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ اسد قیصر
سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کا پشاور قبائلی امن جرگہ سے خطاب
قبائلی اضلاع میں امن قائم نہیں ہوتا تو پاکستان میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔
وفاقی حکومت نے فاٹا اور پاٹا پر ۷ فیصد ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
ہمارے ارکان نے ٹیکس واپس لینے کے لیے حکومت کو مجبور کیا۔
تحریک انصاف کی حکومت میں ہم نے انگور اڈا، خرلاچی کے بارڈر پر تجارت شروع کروائی۔
پشتونوں پر الزام لگایا جاتا ہے کہ بارڈر پر اسمگلنگ ہو رہی ہے۔
جنگ میں ہمارے کاروبار اور معاش تباہ کردیا گیا۔
اس علاقے میں ساری جنگیں اپنے مفادات کے لیے ہوئی ہیں۔
قبائلی علاقوں میں مثالی امن تھا۔ کرائم نہ ہونے کے برابر تھا۔ اسد قیصر
ہمارے صوبے میں اکنامی کو وار اکنامی میں تبدیل کر دیا گیا۔ اسد قیصر
لاہور اور قبائلی اضلاع میں سہولیات ایک جیسی نہیں ہیں
آپ نے ہم سے امن چھینا، آپ نے ہم سے قلم چھینا۔
امن زندگی کی خوشحالی کا اہم جزو ہے
اگر اپریشن ہوا تو ہم اس کی مخالفت کریں گے اور کسی صورت آپریشن کی حمایت نہیں کریں گے۔
ہمارا مطالبہ ہے آپریشن سے متعلق تمام تفصیلات کو پارلیمنٹ میں لایا جایا۔
قبائلی مشران کو اعتماد میں لایا جایا۔ ان سے مشاورت کی جائے۔ اسد قیصر
قبائلیوں کو یقین دہانی کروانا چاہتے ہیں۔ کہ اس جنگ میں آپ اکیلے نہیں ہیں ہم اپنے قبائلیوں بھائیوں کے ساتھ ہیں
تحریک انصاف کے قائد عمران آج بھی آپ کے جنگ لڑ رہے ہیں۔ آپ کو مایوس نہیں کریں
اس ملک میں آئین اور قانون کے مطابق حکمرانی چاہتے ہیں۔
ہماری حکومت میں اس علاقے میں ترقی آئے گی۔ افغانستان، سنٹرل ایشیا کے ساتھ کاروبار ہوگا۔ روس کے ساتھ کاروبار ہوگا۔ اسد قیصر کا امن جرگے سے خطاب


