کالمز

اصول اکثریت

عتیق الر حمن

 

نظام جمہوریت میں ہمیشہ اصول اکثریت لاگو ھوتا ھے مگر ملک خداداد میں 1970 کے انتخابات میں اس انداز میں نفی کی گئی جس کی مثال نہیں ملتی۔1970 کے انتخابات وہ واحد انتخابات ہے جن کی شفافیت پر کوئی اعتراض نہیں کر سکتا لیکن ان انتخابات کے نتائج کے بعد اصول اکثریت کی جس طریقے سے نفی کی گئی اس کے نتائج سب کے سامنے ہے۔ تاریخ لکھنے اور اس پر گہری نظر رکھتے والوں کے بقول 1970 میں ہونے والے انتخابات ملک کے تمام انتخابات سے صاف اور شفاف تصور کئے جاتے ہیں۔ ان انتخابات میں بھٹو صاحب نے روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر کامیابی حاصل کی تھی لیکن کامیابی ملتے ہی اپنا منشور بھول کر قبائلی سرداروں،سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے ساتھ جا ملے یہ وہی لوگ تھے جن کی طاقت ختم کرنے کے لیے عوام نے دیوانہ وار آن کا ساتھ دیا تھا۔ ملکی مفادات اور تاریخ پر نظر رکھنے والے اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں 14 مارچ 1971 کو جنرل یحی شیخ مجیب سے مزید بات کرنے اور بحران کا حل نکالنے کے لیے ڈھاکہ جانے والے تھے جس سے متحرم بھٹو صاحب کو شدید تشویش لاحق ہوئی کہیں جنرل صاحب چپکے سے مجیب الرحمن کی بات مان کر اکثریتی جماعت کو اقتدار نہ سونپ دیں۔ لہذا بھٹو صاحب نے اخباری بیان کے ذریعے خبر دار کیا اگر شیخ ئمجیب الرحمن کے مطالبے پر اقتدار عوامی نمائندوں کے حوالے کرنا ہے تو مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کو اور مغربی پاکستان میں انہیں اقتدار دیا جائے۔ اس سے اگلے دن 15 مارچ کو اپنے ایک بیان میں مزید کہا ” پاکستان کے دو مختلف حصوں میں ایک ہزار میل کا فاصلہ ہے ایسی صورت میں اصول اکثریت لاگو نہیں ہوتا ” ۔بیانوں سے یہ بات صاف ظاہر ہو رہی تھی اب بھٹو صاحب اقتدار میں حصہ داری کے بجائے مغربی پاکستان پر مکمل حکومت چاہتے ہیں اسی تناظر میں ان کا مشہور زمانہ بیان سامنے آیا ۔ آدھر تم ۔ ادھر ہم انہی حالات کی وجہ سے 23 مارچ کو یوم پاکستان کے موقعے پر ڈھاکہ میں صرف دو مقامات ایوان صدر اور گورنمنٹ ہاوس پر پاکستانی پرچم لہرایا جاسکا ان حالات کا ہمارے پڑوسی ملک نے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستانی افواج کے خلاف ایک موثر اور بھرپور مہم کا آغاز کر دیا جس سے عوام اور افواج کے درمیان ایک ایسی دیوار کھڑی ہو گئی جس کے نتیجے میں ملک دو حصوں میں بٹ گیا۔ آج ایک بار پھر وطن عزیز اسی دوراہے پر کھڑا ہے جہاں قوم کو تمام اختلافات بھلا کر دشمن کے سامنے ایک قوم ایک آواز بن کر کھڑا ہونا ہو گا۔

٭…٭…٭…٭o

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button