پی ایم ایس کے لئے عمر کی بالائی حد میں اضافہ،
کے پی کے نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی بند کی جائے، پی ایم ایس امیدواران۔
پشاور: پی ایم ایس مقابلہ جاتی امتحان کے امیدواران مطالبات کے لیے ہر دروازے پر دستک دے رہے ہیں۔
ان نوجوانوں کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا کی بیوروکریسی کی سست روی کی وجہ سے صوبہ بھر کے نوجوانوں کا مستقبل خطرے میں ہے۔
ذرائع کے مطابق دوسرے صوبوں اور وفاقی سطح پر ہر سال مسابقتی امتحان باقاعدگی سے منعقد کیا جاتا ہے۔ تاہم خیبر پختونخوا میں آخری بار 2020 میں پی ایم ایس کی آسامیاں مشتہر کی گئی تھیں جس کے بعد پچھلے چار سال میں کوئی نئی آسامی مشتہر نہیں کی گئی۔
قواعد کے مطابق ہر امیدوار امتحان میں تین بار شرکت کا حقدار ہے جس کیلئے عمر کی بالائی حد تیس سال مقرر کی گئی ہے۔ گریجویشن اور دو سے تین سال کی تیاری کیے بعد ایک طالبعلم امتحان دینے کے قابل ہوتا ہے۔ اس امتحان میں تاریخ سے لے کر صحافت، انجنئیرنگ اور سائنس جیسے مختلف مضامین شامل ہوتے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے نوجوانوں کا المیہ ہے کہ امتحان میں ایک یا دو بار پیش ہونے کے بعد ہی امیدوار عمر کی بالائی حد سے تجاوز کرجاتے ہیں اور اس وجہ سے تین بار امتحان دینے کے اپنے قانونی حق سے محروم رہ جاتے ہیں۔
صوابی سے تعلق رکھنے والے سید حارث کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ انہیں عمر میں 35 سال تک کی چھوٹ دی جائے۔
مردان سے تعلق رکھنے والے ایک اور امیدوار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اگر حقیقت پر مبنی قانونی پر جائز مطالبات نہ مانے جائے اور
تمام امیدواران توقع رکھتے ہیں کہ پی ایم ایس امتحان کے لیے عمر کی بالائی حد میں نرمی کے ان کے مطالبے کو کابینہ کے ایجنڈے میں رکھا جائے گا اور اس کی منظوری دی جائے گی.


