شکرگڑھ کے قریب نالہ ڈیر کا خستہ حال پل کسی وقت بھی کسی بڑے سانحہ کا سبب بن سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شکرگڑھ(نامہ نگار ) سیکڑوں چھوٹے بڑے دیہات و قصبات کو شہر سے ملانے والا نالہ ڈیر کا پل خدا نخواستہ کسی بھی وقت کسی بڑے سانحہ کے رونما ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق پچاس سال سے زائد عرصہ قبل محکمہ شاہرات پنجاب نے تحصیل شکرگڑھ کے سیکڑوں نواحی و سرحدی چھوٹے بڑے دیہات و قصبات کے عوام کو شکرگڑھ شہر تک سفری آسانی کی سہولت فراہم کرنے کےلئے قدیمی نالہ ڈیر پر پختہ پل تعمیر کیا جس کا افتتاح اس وقت کے مشیر مواصلات حکومت پنجاب میجر جنرل ریٹائرڈ قمر علی مرزا نے کیا تھا. پچاس سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد اب یہ پل انتہائی مخدوش صورتحال سے دوچار ہے. خدشہ ہے کہ خدا نخواستہ کہیں یہ پل کسی بھی وقت کسی بڑے سانحہ کا موجب نہ بن جائے۔نالہ ڈیئر کے اس پل پر سے روزانہ کی بنیاد پر ہیوی ٹریفک سمیت ہزاروں چھوٹی بڑی گاڑیوں کا گزر ہوتا ہے پل کے اطراف میں تعمیر کیے گئے حفاظتی جنگلے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکے ہیں جبکہ ہیوی ویٹ ٹریفک گزرتے وقت پل ہچکولے کھا کر پیدل چلنے والوں کو اپنی زندگی کے اختتام کا نوحہ سناتا ہے۔ ستم ظریفی کا یہ عالم ہے کہ علاقہ کے عوام کی خدمت کا دعوی کرنے والی متعدد سیاسی شخصیات اور بالخصوص پچھلے چالیس سال سے اقتدار میں رہنے والے سیاسی خاندان کے سیاسی جانشین کی گزرگاہ بھی یہی بوسیدہ حال پل ہے لیکن افسوس صد افسوس کسی نے بھی اس دم توڑتے عمر رسیدہ بوڑھے پل کے نوحہ جان کنی پر کان نہیں دھراکا جناب وزیراعظم پاکستان اور جناب وزیراعلی پنجاب سے مطالبہ ہے کہ وہ خدا نخواستہ کسی بھی ناقابل تلافی نقصان سے قبل اس پل کی حالت زار کا فوری نوٹس لیں۔ المصطفی ویلفیئر سوسائٹی شکرگڑھ اور شکرگڑھ میڈیا سروس نے مذکورہ بالا پل کی مخدوش حالت کے بارے میں مفصل تحریری رپورٹ بذریعہ رجسٹرڈ ڈاک ڈپٹی کمشنر نارووال کو ارسال کردی ہے۔


