کالمز

☆ اے چاند یہاں نہ نکلا کر☆

تحریر ۔۔۔۔۔۔۔بنت حوا 

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا

اے چاند یہاں نہ نکلا کر

"اللہ جس نے میرے لعل کو اس نوبت تک پہنچایا اسکو،اسکے گھر والوں کو اور اسکی سات پشتوں، اور اسکے مددگاروں اور حکمرانوں کو سکون سے محروم کر دے جیسے میرا دل بے چین ہے اور ان کی اولادوں کو تباہ و برباد کر ” یہ سخت الفاظ ایک ماں کے تھے جو کہ روتے ہوئے بار بار دہرا رہی تھی، ان الفاظ کو سن کر روح تک کانپ اٹھی، ماں کی دعا عرش ہلا دیتی ہے ،ان کے ساتھ آئی خاتون سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ان ماں جی کا بیٹا جو ان کا سہارا تھا اس کو کسی نے ہیروئن کے نشے پر لگا دیا اور اب انجیکشن کے ذریعے نشہ استعمال کرنے کی وجہ سے وہ ہیپاٹائٹس سی کا شکار ہوا اور جگر کا کینسر آخری سٹیج پر اور ڈاکٹرز نے لا علاج کر دیا ،

ایسی بد دعائیں روزانہ نہ جانے کتنی ماوں، بہنوں، بوڑھے باپوں کے دل سے نکلتی ہوں گی جن کے بیٹے، بھائی، ان کی امیدوں کے سہارے بے بسی کی موت تک پہنچ جاتے ہیں،

منشیات کا استعمال صرف قومی نہیں بین الاقوامی مسئلہ ہے، ہر سال لاکھوں افراد موت کے منہ میں پہنچ جاتے ھیں، ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت دو کڑور سے ذیادہ افراد نشے کے عادی ہیں جن میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہے ،اور پچھتر فیصد مرد اور پچیس فیصد عورتین شامل ہیں، پاکستان میں اس وقت ہیروئن، کوکین، چرس، بھنگ، آئس، افیون،اوپی آئیڈز:

یہ ڈرگ بنیادی سطح پر ادویات میں پین کلِر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جس میں anaesthesia شامل ہے- اس کی ایک اور شکل ’’ہیروئن‘‘ کے نام سے معروف ہے-

، میتھیم(برسٹل آئس )اور کتھئی اور کالے رنگ کی کشمش کی طرح عرق والا پودا کینا بیس پودا جس کا عرق بھنگ، گانجا، حشیش اور پتے گراس، ماری جوانا اور ویڈ کہلاتے کا استعمال سب سے زیادہ ہے،،پاکستان میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ پنجاب ہے ،کچھ وقت پہلے منشیات سے پاک پنجاب کا نعرہ لگایا گیا اور اس پر عمل درآمد بھی کروانے کی کوشش کی گئی ،لیکن اسکے بعد پراسرار خاموشی چھا گئی ،شاید اس کا سب سے بڑا سبب اشرافیہ کی پشت پناہی اور دوسرا قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بہت سے جوانوں اور افسران کا خود اس لعنت کا عادی ہونا ہے،

 کیونکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کی رپورٹ کے مطابق بڑی تعداد میں پولیس ملازمین نشے کے استعمال اور فروخت میں ڈیلرزکے آلہ کارنکلےہیں۔یہ انکشاف انسداد منشیات سمگلنگ ڈے پر ہوا کہ سمگلنگ روکنے اور منشیات فروشوں کو پکڑنے والے  پنجاب بھر سینکڑوں پولیس افسران واہلکار شراب، ہیروئن، آئس و چرس کے عادی ہیں، پنجاب میں سب سے زیادہ منشیات فروشی، فیصل آباد، ملتان،لاہور،راولپنڈی بہاولپور اور چکوال میں ہوتی، اور ہر قسم کی منشیات با آسانی مل جاتی ہیں، ضلع چکوال میں دو بار اس مکروہ دھندے میں ملوث جرائم پیشہ افراد زیر زمین گئے جب محمد بن اشرف نے ڈی پی او کا چارج اور سید اظہر حسن شاہ صاحب نے ڈی ایس پی کا چارج سنبھالا ،بہت سے اختلافات کے باوجود محمد بن اشرف کی ایک بات قابل تحسین ہے کہ انھوں نے جن جن کو گرفتار کروایا وہ عادی مجرم تھے ،چکوال کے بارے اخباری خبروں تک یہ ہے کہ سب اچھا ہے اور کاروائی ہوئی بھی لیکن آج کل منشیات فروشوں کا کاروبار عروج پر ہے کوئی پوچھنے والا نہیں، فم کسر میں منشیات فروشوں کے خلاف ایک گروہ کے افراد کو مبینہ پولیس مقابلے میں مارا گیا جب کے دوسرے گروہ آزادانہ اپنا کام جاری رکھے ہوئے جن کی وجہ سے عوامی رائے انتظامیہ کے بارے بہت تبدیل ہو رہی اور بعض لوگ تو یہاں تک بولتے کہ دوسری پارٹی سے نذرانہ حلال کیا گیا ،چوا سیدن شاہ مصطفی آباد منی افغانستان وہاں ہر طرح کا جرم ہو رہا کوئی پوچھنے والا نہیں، ڈھڈیال اور مرید میں ہیروئن اور آئس کی خرید و فروخت جاری اور تھوہا بہادر چکوال تھانہ صدر کی حدود میں ایسا علاقہ جہاں ہونے والے جرائم اور سر عام منشیات فروشی پر کوئی پابندی نہیں ہے، وہاں انتظامیہ نے آنکھیں بند کر رکھی، اسکی وجہ اعلی شخصیات کی سرپرستی ہے یا نذرانہ پولیس چوکی بلکسر اور تھانہ صدر والے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے بیٹھے ہیں، اور سب اچھا ہے کی رپورٹ پیش کی جاتی ہے ،عوامی حلقوں میں تو چائے پانی بنیادی وجہ قرار دی جاتی ہے،اور دوسری وجہ سیاسی پنڈتوں کی پشت پناہی کہ ووٹ لینے کے لئے جرائم پیشہ افراد کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی،اور ہمارے حکمران صرف اشرافیہ کو نوازنے اور مراعات دینے اور عام آدمی کو مہنگائی کی چکی میں پیسنے میں مصروف ہیں، کوئی تحفظ کوئی قانون نافذ نہیں، قانون صرف قلفی فروش فرمان اللہ جیسوں کے لئے ہے اور غریبوں کے لئے ،طاقت ور طبقے کے سامنے قانون بے بس اور ہاتھ باندھے کھڑا ہے،

عوامی حلقے یہ سوال کرنے پر مجبور ہیں

کب پاکستان میں قانون پر سختی سے عمل ہوگا ؟

کب بڑے عہدے داروں کو بھی عام عوام کی طرح سزا دی جائے گی؟ اور جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کرنے والے وی آئی پیز کو معاونت کے جرم میں سزا دی جائے گی،

اور عوام کب تک ایسے لوگوں کو ووٹ اور سپورٹ کرتی رہے گی جو ان کے بچوں کو ترقی پر لے جانے کی بجائے منشیات فروشوں کے ساتھ ہوتے ان کی پشت پناہی کرتے؟ اپنی تحریر کا اختتام بلھے شاہ کے ان الفاظ پر کروں گی جن میں سب کے لئے پیغام ہے کوئی سمجھے تو

سر تے ٹوپی تے نیت کھوٹی

لینا کی سر ٹوپی دھر كے

تسبیح پھری پر دِل نا پھریا

لینا کی تسبیح ہاتھ پھڑ كے

چلے کیتے پر رب نا میلیا

لینا کی چلیاں وچ وڑھ كے

بلھے شاہ جاگ بنا دودھ نئی جمدا

پانویں لال ہووے کڑھ کڑھ كے

سوچئے گا ضرور اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button