آج کے کالمز

غوث اعظم شیخ عبدالقادر جیلانیؒ

تحریر۔۔عاصم نواز طاہرخیلی (غازی/ہری پور)

 

حضرت غوثِ اعظمؒ ہر قسم کے دنیاوی لالچ سے بے زار و بے نیاز تھے۔آپ کی فیاضی خلفائے بنو عباس اور امراء سلطنت کو بھی شرماتی تھی۔آپ نے تجارت کا پیشہ صرف اس لیے اپنا رکھا تھا کہ لاکھوں کی آمدن کو غریبوں اور حقداروں میں بانٹتے رہیں۔ان کے ہم عصر ولی اللہ حضرت شیخ معمر جرارہؒ فرماتے ہیں کہ میں نے اپ جیسا خلیق، فرخ دل، باوفا، بامروت اور غریب پرور کہیں نہیں دیکھا۔وہ اپنی علمی و روحانی فضیلت کے باوجود منکسر المزاج انسان تھے۔بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر شفقت ان کا وطیرہ تھا۔بادشاہوں اور امراء کی تعظیم کے لیے نہیں اٹھتے تھے اور نا ہی ان کے در پر جاتے تھے۔آپ خود فرماتے تھے:

"غریبوں، مسکینوں اور بے آسرا لوگوں میں بیٹھ کر مجھے بے حد مسرت ہوتی ہے۔امیروں کی ہم نشینی کی آرزو ہر کوئ کرتا ہے مگر غریبوں کی محبت کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے۔”

روایت ہے کہ کوئ خستہ حال شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بتایا کہ آج اسے دریا پار جانا تھا لیکن ملاح نے انکار کر دیا۔ابھی اس شخص کی بات جاری ہی تھی کہ ایک اور شخص وہاں حاضر ہوا اور تیس دینا بطور ہدیہ شیخؒ کو پیش کیے۔آپ نے وہ سب دینار اس مفلس کو دیکر کہا کہ اب جاؤ اور اس ملاح کو یہ بھی کہنا کہ آئندہ کسی مفلس کا سوال رد نہ کرے۔پھر شیخؒ نے اپنی قمیص اتار کر بھی اس شخص کی نذر کر دی۔وہ شخص جب قمیص لے جانے میں متامل ہوا تو وہی قمیص آپؒ نے اس سے بیس دینار کی خرید لی۔

 

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ خدا ترسی، رحم دلی، بزرگی اور تمام اخلاقی خوبیوں سے مزین تھے۔وہ کسی کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے تھے اور دوسروں کی راحت کے لیے خود کو تکلیف میں ڈال کر فرحت محسوس کرتے تھے۔ایک مرتبہ آپ حج پر روانہ ہوئے۔راستے میں ایک قصبہ میں قیام کے دوران ایک غریب کی انتہائ خستہ حال کٹیا میں ٹھہرنے کو ترجیح دی۔جب علاقے میں آپؒ کی آمد کی خبر پھیلی تو تمام اہل علاقہ نزرانے لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔امراء نے آپ کو اپنے ہاں چلنے کی دعوت دی مگر آپ نے معذرت کر دی اور تمام نذرانے جن میں سونا، چاندی، مال مویشی اور غلہ شامل تھا اپنے میزبان کی نذر کر دیے اور اگلی رات مکہ معظمہ کے سفر پر روانہ ہوگئے۔راوی بیان کرتے ہیں کہ کچھ ہی عرصہ میں وہ غریب شخص علاقے کا سب سے امیر اور اہل ثروت شخص بن کر ابھرا۔

 

غوث پاکؒ سراپا مومن تھے۔ظاہری علوم فنون میں بھی ملکہ رکھتے تھے لیکن علم و عرفان میں اللہ نے ان کو کامل اولیاء پر بھی سبقت دی تھی۔انہوں نے حال میں رہ کر اپنے گفتار و کردار سے لوگوں کے دلوں میں عظیم انقلاب برپا کیا۔وہ اسلام کے عظیم داعی، فقہ حنبلی کے پیر و شارح اور اکابرین کے نقش قدم پر چلنے والی ہستی تھے۔ "غنیۃ الطالبین” فقہ حنبلی پر ان کی مشہور کتاب ہے۔آپ کی زندگی، کلام اور طریقہ احسان کتاب و سنت کے عین مطابق تھا جس میں فلسفہ و کلام اور وحدت الوجود کی بحثوں کا کوئ دخل نہ تھا۔آپؒ کا اصل کمال کتاب و سنت سے عشق اور نرم دلی کے ساتھ خلق خدا سے بے پناہ محبت و شفقت کا جزبہ تھا۔

 

آپؒ کے گھرانے زہد و عابدیت کا یہ عالم تھا کہ اک بار جیلان میں سخت قحط پڑا۔نماز استسقاء کے باوجود باران رحمت نہ ہو نے پر جیلان کے علماء و مشائغ شیخ عبدالقادر جیلانی کی پھوپھی کے گھر تشریف لے گئے اور دعا کی درخواست کی۔ انہوں نے صحن میں اسی وقت جھاڑو دیا اور آسمان کی طرف مخاطب ہوئیں ” اے میرے مالک جھاڑو میں نے دی ہے، رحمت کے موتی توُ برسا دے”۔روایت ہے کہ اسی وقت کالی گھٹا چھائ اور اتنی بارش ہوئ کہ جل تھل مچ گئ۔

ایک بار آپ سے کسی نے پوچھا کہ آپ کو ولی ہونے کا پہلی بار احساس کب ہوا؟ اس پر انہوں نے بتایا کہ جب میری عمر دس سال تھی اور میں مکتب جاتا تو استاد محترم باقی بچوں سے کہتے ” ولی اللہ کے بیٹھنے کےلیے جگہ کھلی کر دو”.

انہی دنوں اک اجنبی شخص ادھر آیا اور بولا کہ میں نے فرشتوں سے سنا ہے عنقریب اس لڑکے کی بہت شان ہوگی۔یہ دیالُو ہوگا اور مکر سے عاری ہوگا۔غوث اعظمؒ بتاتے ہیں کہ میں نے چالیس برس بعد اس شخص کو پیچابا کہ وہ وقت کے ابدالوں میں سے ایک تھا۔

پھر انہوں نے مزید بتایا کہ جب میں محلے کے بچوں کے ساتھ کھیلا کرتا تھا تو اک غیبی آواز مجھے پکارتی اور میں ڈر کر ماں کی اوڑھنی میں چھپ جاتا۔پھر جوانی میں بھی یہی آواز مجھے سنائ دیتی مگر میں سمجھ نہ پاتا۔مجاہدے کے دنوں میں جب مجھے پر نیند کا غلبہ بڑھتا تو اسی آواز میں کوئ مجھے کہتا ” تمھیں سونے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا۔ہم بچپن میں بھی تمھارے دوست تھے اور اب بھی ہیں۔آج کچھ بن جانے کے بعد ہمیں بھول نہ جانا”.آج بھی عالم تنہائ میں وہ آواز میرے ساتھ رہتی ہے اور اپنے پاس آنے کا کہتی ہے۔

 

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button