Businessقومی

پاکستان چار سال بعد عالمی بانڈ مارکیٹ میں واپسی کیلئے تیار

اصلاحات پر قائم رہنا پائیدار ترقی کا واحد حل، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا بلوم برگ کو انٹرویو

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان چار سال بعد عالمی بانڈ مارکیٹ میں واپسی کیلئے تیار ہے اور اصلاحات کے راستے پر قائم رہنا ہوگا کیونکہ یہی پائیدار ترقی کا واحد حل ہے۔ انہوں نے یہ بات بلوم برگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت آئندہ چند ہفتوں میں مالی مشیروں کے انتخاب کیلئے تجویز جاری کرے گی جبکہ اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے کہ ڈالر، یورو یا اسلامی سکوک بانڈ جاری کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جلد ہی اپنی تاریخ کا پہلا پانڈا بانڈ متعارف کرانے کی تیاری بھی کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے معاشی استحکام کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور مہنگائی، شرح سود، مالی خسارہ اور کرنٹ اکاؤنٹ سمیت تمام بڑے معاشی اشاریے بہتر سمت میں جا رہے ہیں۔ وزیر خزانہ کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر جون تک تین ماہ کی درآمدات کے برابر ہو جانے کی توقع ہے جو عالمی معیار سمجھا جاتا ہے۔

محمد اورنگزیب نے واضح کیا کہ روپے پر فوری دباؤ نہیں ہے کیونکہ ادائیگیوں کا توازن بہتر ہوا ہے، ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے اور خدمات کی برآمدات میں بھی بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روپیہ گزشتہ تقریباً ڈیڑھ سال سے مستحکم ہے۔

وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ طویل عرصے سے التوا کا شکار اصلاحات بھی کی جا رہی ہیں جن میں سرکاری اداروں کی نجکاری اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی ایئرلائن کو گزشتہ ماہ فروخت کر دیا گیا ہے جبکہ اب حکومت نیویارک کے روزویلٹ ہوٹل میں اپنا حصہ فروخت کرنے، بڑے ہوائی اڈوں کے انتظامات آؤٹ سورس کرنے اور تقریباً دو درجن دیگر سرکاری اداروں کی نجکاری پر غور کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی ترجیح برآمدات پر مبنی ترقی ہے تاکہ درآمدات پر انحصار کے باعث بار بار پیدا ہونے والے ادائیگیوں کے بحران سے بچا جا سکے۔ وزیر خزانہ نے زور دیا کہ ہمیں اصلاحات کے راستے پر قائم رہنا ہوگا کیونکہ یہی پائیدار ترقی کا واحد حل ہے۔

دریں اثنا بلوم برگ نے اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ پاکستان چار سال کے وقفے کے بعد دوبارہ عالمی بانڈ مارکیٹ میں جانے کی تیاری کر رہا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ملکی معیشت میں استحکام آیا ہے، جبکہ چند سال قبل پاکستان ڈیفالٹ کے قریب پہنچ گیا تھا۔

بلوم برگ کے مطابق سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر پاکستانی وفد، جس کی قیادت وزیراعظم شہباز شریف کر رہے ہیں، عالمی سرمایہ کاروں کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ پاکستان کی معیشت بہتر ہو چکی ہے اور خاص طور پر معدنیات، زراعت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری کیلئے تیار ہے۔

بلوم برگ نے مزید بتایا کہ پاکستان 2022 کے بعد عالمی بانڈ مارکیٹ سے تقریباً باہر ہو گیا تھا تاہم آئی ایم ایف پروگرام کے تحت سخت مالی اصلاحات کی گئیں۔ مہنگائی جو ایک وقت میں 40 فیصد تک پہنچ گئی تھی اب کم ہو کر سنگل ڈیجٹ سطح پر آ چکی ہے جبکہ حکومت نے دوبارہ پرائمری مالی سرپلس حاصل کر لیا ہے اور عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری کی ہے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button