کینیڈا چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کرے،چینی وزارت خارجہ
بیجنگ(شِنہوا)چین نے کینیڈا پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی صورت حال پر غور کرے اور چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت بندکرے۔یہ بات وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤننگ نے اپنی معمول کی پریس بریفنگ کے دوران کینیڈا کی جانب سے بعض چینی اہلکاروں پر انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے الزام میں عائد پابندیوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہی۔ ان پابندیوں کا اعلان کینیڈا کے خارجہ امورکے وزیر میلانی جولی نے کیا تھا۔ماؤننگ نے کہا کہ کینیڈا کی حکومت نے حقائق جانے بغیر چین کے خلاف انسانی حقوق کے نام پر غلط الزامات عائد کئے اور چینی اہلکاروں پرغیرقانونی پابندیاں عائد کیں۔ترجمان نے کہا کہ یہ چین کے اندرونی معاملات میں سراسر مداخلت ہے اور یہ بین الاقوامی قوانین اور بین الاقوامی تعلقات کو چلانے والے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین کینیڈا کے اقدامات کی سختی سے مخالفت اور شدید مذمت کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ چینی حکومت عوام پر مرکوز ترقیاتی فلسفے پر عمل پیرا ہے اور انسانی حقوق کے احترام اور تحفظ کو مکمل اہمیت دیتی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ چین نے انسانی حقوق کے میدان میں زبردست ترقی کی ہے اور عالمی انسانی حقوق کے نصب العین میں اہم کردار ادا کیا ہے اور تعصب کے بغیر اس سے انکار ناممکن ہے۔انہوں نے حوالہ دیا کہ کینیڈا کو انسانی حقوق کے مسائل کی اپنی فہرست کا سامنا ہے اور یہ کہ اس کا انسانی حقوق کا ریکارڈ بے داغ نہیں ہے۔ آج بھی کینیڈا کی مقامی آبادی کو منظم نسلی امتیاز اور غیر منصفانہ سلوک کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے نمٹنے کے بجائے کینیڈا نے دوسرے ممالک کو بدنام کرنے کا انتخاب کیا ہے اور چین کے انسانی حقوق کے معاملات کے بارے میں جھوٹ پھیلا رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ اقدام چور مچائے شور کے مترادف ہے جو دنیا کو قائل نہیں کرسکے گا۔ترجمان نے کہا کہ حقائق نے کینیڈا کے دوہرے معیار اور منافقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔ کینیڈا انسانی حقوق کے بارے میں دوسروں کو لیکچر دینے یا دوسرے ممالک میں انسانی حقوق کی صورتحال پر انگلی اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور اسے جج کی حیثیت سے کام کرنے اور من مانی پابندیاں عائد کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ چین کینیڈا پر زور دیتا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے نام پر چین کے مفادات اور تشخص کو نقصان پہنچانا بند کرے، اپنے سیاسی ہتھکنڈے کو ختم کرے اور متعلقہ چینی اہلکاروں پر عائد غیر قانونی پابندیاں فوری طور پر ختم کرے۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کے دفاع کے لئے تمام ضروری اقدامات کریں گے۔



