عالمیقومی

ڈی جی آئی ایس پی آر کی آج کی اہم اور فیصلہ کن پریس کانفرنس

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہدشمن کو کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہیے

 

راولپنڈی: ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) نے آج ایک نہایت اہم اور غیر معمولی پریس کانفرنس سے خطاب کیا جس میں انہوں نے قومی سلامتی، داخلی و خارجی سیکیورٹی صورتحال، سرحدی چیلنجز، دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشنز اور حالیہ حساس معاملات پر کھل کر مؤقف پیش کیا۔

پریس کانفرنس کو ملکی اور بین الاقوامی میڈیا کی جانب سے غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ یہ ایسے وقت میں منعقد کی گئی جب خطے کی صورتحال میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے خطاب کے آغاز میں واضح کیا کہ پاکستان ایک پُرامن ملک ہے تاہم اپنے دفاع اور خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نہ صرف سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہر وقت مستعد ہیں بلکہ اندرونی امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے بھی بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور یہ قربانیاں کسی صورت رائیگاں نہیں جانے دی جائیں گی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز ملک بھر میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے دہشت گرد نیٹ ورکس کا قلع قمع کر رہی ہیں اور کئی بڑے خطرات کو بروقت ناکام بنایا گیا ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے سرحدی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی افواج لائن آف کنٹرول اور دیگر سرحدی علاقوں میں مکمل الرٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دشمن کی جانب سے کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی کا فوری، مؤثر اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر کمزوری کو امن نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں اور منفی پروپیگنڈے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹی خبریں اور گمراہ کن اطلاعات قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں، اس لیے عوام سے اپیل ہے کہ وہ صرف مستند اور سرکاری ذرائع سے آنے والی معلومات پر یقین کریں۔

انہوں نے میڈیا کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ قومی مفاد کے تحفظ میں ذمہ دار صحافت انتہائی اہم ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ریاست، افواج اور عوام ایک ہیں اور دشمن کی ہر سازش کو اتحاد اور شعور کے ذریعے ناکام بنایا جائے گا۔

پریس کانفرنس میں خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور تعاون کا خواہاں ہے اور ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی ذرائع کو ترجیح دیتا ہے، تاہم اگر پاکستان کی سالمیت کو چیلنج کیا گیا تو افواج ہر محاذ پر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی پالیسی مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی ہے اور اس کا مقصد صرف عوام کا تحفظ اور ریاستی مفادات کا دفاع ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ ملک دشمن عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے نوجوانوں کو خاص طور پر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ سوشل میڈیا پر موجود گمراہ کن مواد سے ہوشیار رہیں اور ریاست مخالف بیانیے کا حصہ نہ بنیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں اور ان کا مثبت کردار ہی ملک کو آگے لے جا سکتا ہے۔

پریس کانفرنس کے اختتام پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس ایجنسیاں ایک صفحے پر ہیں اور ملک کے امن و استحکام کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دشمن قوتوں کے تمام عزائم کو ناکام بنائے گا اور قوم کے اعتماد پر پورا اترے گا۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button