
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جس نے نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ پورے جنوبی ایشیا کی سلامتی و استحکام کے حوالے سے گہرے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔ حالیہ ہفتوں میں پاکستانی فوج کے ترجمان کے بیانات، افغان طالبان حکومت کا ردعمل، سرحدی جھڑپوں کی تاریخ، اور دونوں ملکوں کی سیاسی و عسکری سطح پر بڑھتی ہوئی تناؤ نے صورتحال کو نازک ترین مرحلے تک پہنچا دیا ہے۔
پاکستان کے فوجی ترجمان Lieutenant General احمد شرف چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت نے دہشتگرد گروہوں، بشمول القاعدہ، داعش، اور تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے مبینہ ٹھکانے بنانے کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان دہشتگردوں اور غیر ریاستی عناصر کا “مرکز” بنتا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے میں سلامتی کے لیے خطرات پیدا ہو رہے ہیں۔ چوہدری نے مزید کہا کہ افغان طالبان نے پہلے بین الاقوامی برادری سے وعدے کیے تھے کہ وہ اپنے ملک کو دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے، مگر وہ وعدے ابھی تک پورے نہیں ہوئے۔ انہوں نے افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کے لیے ہتھیار، فنڈ، اور تربیت کی فراہمی کے الزامات بھی دہرائے اور کہا کہ پاکستان نے اس بارے میں ثبوت بھی فراہم کیے ہیں۔
افغان طالبان کے نمائندوں نے پاکستانی فوج کے بیان کو “غیر ذمہ دار اور اشتعال انگیز” قرار دیا ہے۔ طالبان حکام نے کہا کہ یہ بیانات حقیقت سے دور ہیں اور ان کی حکومت خطے میں امن چاہتی ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بیان میں کہا کہ ایسے بیانات سے کشیدگی بڑھ سکتی ہے اور وہ طالبان حکومت کی خودمختاری اور وقار کو چیلنج کرتے ہیں۔ طالبان نے مزید اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے ملک کو دہشتگردوں کے ٹھکانے کے طور پر استعمال ہونے سے نہیں دیں گے اور دونوں ممالک کے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے گفت و شنید کا راستہ کھلا ہے، بشرطیکہ اس میں اعتبار اور احترام موجود ہو۔ تاہم، افغان حکام نے پاکستان پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنی سیکیورٹی پالیسیوں کے ذریعے افغان علاقے میں مداخلت کر رہا ہے، جس سے دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی ٹکراؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
یہ کشیدگی بالکل نئی نہیں ہے۔ اکتوبر 2025 میں پاک‑افغان سرحد پر شدید جھڑپیں ہوئی تھیں جس میں پاکستانی فوج کے 23 جوان شہید اور 29 زخمی ہوئے تھے جبکہ افغان طالبان اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کے 200 سے زائد جنگجو ہلاک ہوئے تھے، اسباب کے بارے میں دونوں طرف سے مختلف دعوے سامنے آئے ہیں۔ پاکستان نے اسے افغان جانب سے بلا اشتعال فائرنگ اور حملے قرار دیا، جبکہ طالبان نے اپنے علاقے پر حملے کا الزام مسترد کیا۔ ان جھڑپوں کے بعد، طورخم بارڈر سمیت کئی سرحدی راستے بند ہو گئے تھے، جس سے تجارت اور عام شہریوں کی آمد و رفت متاثر ہوئی۔ اگرچہ بعد میں طورخم بارڈر افغان پناہ گزینوں کے لیے کھول دیا گیا، لیکن مکمل تجارتی راستے ابھی تک بحال نہیں ہوئے۔
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے بھی کابل کو سخت پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگرد نیٹ ورکس، خاص طور پر TTP اور دیگر ایسے گروپس کو جو پاکستانی سرزمین پر حملے کر رہے ہیں، افغانستان کے اندر ختم یا بے اثر کرنا ہوگا، ورنہ پاکستان اپنی سرحدوں اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے مجبور ہو گا۔ اسی سلسلے میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغان موقف کو “مضحکہ خیز” قرار دیا اور کہا کہ یہ دعویٰ کہ TTP دہشتگرد پاکستانی پناہ گزین ہیں، حقیقت سے بعید ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد اکثر غیر سرکاری راستوں سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں، جو اس صورتحال کے سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ صورتحال نہ صرف دونوں ملکوں کے درمیان ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان اور چین نے مل کر ایک بیان جاری کیا ہے جس میں طالبان حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ افغانستان کو دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔ عرب ممالک اور قطر نے بھی دونوں ممالک سے restraint اور مذاکرات پر زور دیا ہے تاکہ کشیدگی مزید نہ بڑھے۔ انہوں نے خوشامد کی ہے کہ امن و استحکام خطے کی ترقی اور سلامتی کے لیے ضروری ہے۔
افغانستان نے 2025 میں اپنی تجارت کو متنوع راستوں کے ذریعے کامیابی سے برقرار رکھا — ایران اور وسطی ایشیا کے روٹس کے ذریعے، جو پاکستان کے ساتھ سرحدی مشکلات کے باوجود تجارتی حجم کو کم نہیں ہونے دیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ تعلقات میں کشیدگی کا اثر اقتصادی میدان میں بھی پڑ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف فوجی کارروائیاں مسئلے کا حل نہیں ہیں۔ دہشتگردی اور عدم اعتماد جیسے گہرے مسائل کا حل گفت و شنید، موثر انٹیلی جنس اشتراک، اور ثبوت پر مبنی مشترکہ اقدامات ہیں جو دوطرفہ اعتماد قائم کریں۔ اگرچہ فوجی ردعمل ضروری ہے، مگر دیرپا امن کے لیے سیاسی و معاشی شراکت داری کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اس بات پر زور دیا ہے کہ کابل کو دہشتگرد گروہوں کے خلاف اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان دیرپا امن قائم ہو سکے۔
پاکستان‑افغانستان تعلقات میں موجودہ کشیدگی نہ صرف دونوں ممالک کے لیے چیلنج ہے بلکہ خطے میں امن و ترقی کے امکانات پر بھی گہرا اثر ڈال رہی ہے۔ عسکری و سیاسی سطح پر سخت بیانات اور شدید ردعمل کے باوجود ماہرین مذاکرات اور اشتراک پر زور دے رہے ہیں تاکہ دہشتگردی، سرحدی جھڑپیں اور تجارت کے مسائل کا پائیدار حل تلاش کیا جا سکے۔



