پاک سعودیہ تعلقات کے معیشت پر مثبت اثرات مرتکب ہوں گے ولی اللہ خان
پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں تاجر برادری برادر ممالک کے کاروباری افراد کو پاکستان میں صنعتوں کے قیام اور سرمایہ کاری کی طرف راغب کر رہی ہے
کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاک سعودیہ تعلقات کے معیشت پر مثبت اثرات مرتکب ہوں گے یہ بات پریذیڈینٹ ایس ایم ای فاﺅنڈیشن اور کنوینئر ایف پی سی سی آئی سندھ ریجنل اسٹینڈنگ کمیٹی برائے ایس ایم ایز پرموشن ولی اللہ خان نے 130رکنی سعودی وفد کی پاکستان آمد پر انہیں خوش آمدید کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں تاجر برادری برادر ممالک کے کاروباری افراد کو پاکستان میں صنعتوں کے قیام اور سرمایہ کاری کی طرف راغب کر رہی ہے ولی اللہ خان نے کہا کہ 2ارب ڈالر سرمایہ کاری کے معاہدے دستخط ہونے سے پاکستانی معیشت مستحکم ہو گی جبکہ پاکستان غیر ملکی قرضوں کے بوجھ سے آزادی حاصل کرنے کی جانب گامزن ہو سکے گا سعودی وفد کے پاکستان آمد پر ہی اسٹا ک مارکیٹ م86ہزار پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری سے پاکستان میں توانائی ،آئی ٹی ، مائننگ ، منرلز،ایگریکلچر،کاروبار،سیاحت،افرادی قوت سمیت دیگر اہم سیکٹرز کی ترقی پر خصوصی توجہ دی جائے گی جس سے ملک میں ترقی اور خوشحالی کے دو ر کا آغاز ہوگا ولی اللہ خان نے کہاکہ سعودی اعلیٰ تجارتی وفد کی پاکستان آمد اہم سنگ میل ثابت ہوگی اور ٹیکسٹائل و کنسٹریشن کمپنیز بھی تیزی سے پروان چڑھے گی موجودہ حکومت پاکستان کو ایشیئن ٹائیگر بنانے کے لئے پر عظم ہے وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف کی کاوشوں سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے 3 ماہ میں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے 7 ارب ڈالر کے بیل آﺅٹ پیکیج سے زائد رقم پاکستان بھیجی ہے جس سے ملکی ذخائر میں تیزی سے اضافہ ہو ا ہے انہوں نے کہا کہ ستمبر 2024 میں آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے بیل آﺅٹ پیکیج کی منظوری دے دی تھی جس کے بعد 27 ستمبر کو پہلی قسط کی مد میں ایک ارب 2 کروڑ 69 لاکھ ڈالر کی پاکستان کو موصول ہو گئے تھے جبکہ پاکستان کو مالی سال 2025 میں قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے 25 ارب ڈالر درکار ہیں.


