قومی

پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں خواتین کو بااختیار بنانا” کے موضوع پر ایک تقریب، کراچی کے رامادا پلازا ہوٹل میں منعقد کی گئی

محکمہ ترقی نسواں حکومت سندھ اور جرمن ڈیولپمنٹ کوآپریشن (GIZ) کے اشتراک سے "16 دن کی صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف مہم” کے سلسلے میں "پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں خواتین کو بااختیار بنانا” کے موضوع پر ایک تقریب، کراچی کے رامادا پلازا ہوٹل میں منعقد کی گئی۔


تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محترمہ شاہینہ شیر علی، صوبائی وزیر برائےترقی نسواں نے کام کار کی جگہوں پر صنفی بنیاد پر تشدد (GBV) کے خلاف zero tolerance پالیسی کی ضرورت پر زور دیا۔

سیکریٹری، رشید احمد زرداری نے 16 دن کی مہم کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ "ہم ہر سال اس دن کو مناتے ہیں تاکہ دنیا سے صنفی بنیاد پر تشدد کے خاتمے کا عزم دہرایا جا سکے۔”

محترمہ ثاقبہ عزیز، کمپوننٹ مینیجر (GIZ)، نے "ٹیکسٹائل انڈسٹری میں خواتین کے کردار کو مضبوط بنا کر روزگار کو فروغ دینا” کے موضوع پر ایک پروجیکٹ W.E پیش کیا، جس میں صنفی مساوات کے فروغ میں پروجیکٹ کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔
.


تقریب میں Denim، Artistic Milliners ۽ Mustaqim Industries کی کامیاب خواتین کی کہانیاں پیش کی گئیں، جنہوں نے ٹیکسٹائل کے شعبے میں محفوظ اور جامع ماحول پیدا کرنے کے لیے اپنے عملی اقدامات اور عزم کا مظاہرہ کیا۔

اپنی اختتامی تقریر میں محترم عاشق حسین کلہوڑو، ڈپٹی ڈائریکٹر نے کہا کہ پاکستان میں 28 فیصد خواتین صنفی بنیاد پر تشدد کا شکار ہیں، جو معاشرتی خوشحالی اور معاشی پیداوار پر منفی اثر ڈال رہا ہے۔

ٹیکسٹائل انڈسٹری سے وابستہ مختلف تنظیموں کے رہنماؤں نے جرمن ڈیولپمنٹ کوآپریشن (GIZ) کے W.E پروجیکٹ کو صنفی مساوات اور پائیدار معاشی ترقی کی طرف ایک مثبت قدم قرار دیا۔

آخر میں صدیق اکبر، ثاقبہ عزیز اور GIZ کی پوری ٹیم کو سندھ میں W.E پروجیکٹ کے آغاز پر مبارکباد دی۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button