پاکستان کی اقوامِ متحدہ میں بچوں کے حقوق پر نمایاں پیش رفت
اقوامِ متحدہ کی کمیٹی برائے حقوقِ اطفال کے سامنے پاکستان کی اصلاحات اور اقدامات پیش

حکومتِ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے کنونشن برائے حقوقِ اطفال کے تحت اپنی چھٹی اور ساتویں مشترکہ دورانیہ رپورٹس اور بچوں کی فروخت، جسم فروشی اور فحش نگاری سے متعلق اختیاری پروٹوکول کے تحت ابتدائی رپورٹ جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی کمیٹی برائے حقوقِ اطفال کے سامنے پیش کی۔ پاکستان کی گزشتہ 2016 کی سماعت کے بعد بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے نمایاں قانونی، پالیسی اور ادارہ جاتی اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔
پاکستانی وفد کی قیادت وزیرِ مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کی، جبکہ وفد میں سیکرٹری وزارتِ انسانی حقوق عبدالخالق شیخ، چیئرپرسن پنجاب چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو سارہ احمد اور جنیوا میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر بلال احمد شامل تھے۔
وفد نے آگاہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر بچوں کے تحفظ کے لیے اہم قانون سازی کی گئی ہے، جن میں کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے 18 سال کم از کم عمر مقرر کرنے والے قوانین شامل ہیں، جن میں اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 اور بلوچستان چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2025 نمایاں ہیں۔ ان اقدامات سے ملک بھر میں کم عمری کی شادی کے خاتمے کے عزم کی عکاسی ہوتی ہے۔
پارلیمنٹ نے بچوں کو آن لائن جنسی استحصال، سائبر بُلنگ، انسانی اسمگلنگ اور دیگر جدید خطرات سے محفوظ بنانے کے لیے قوانین منظور کیے۔ زچگی اور پدری رخصت، ڈے کیئر مراکز کے قیام، مذہبی اقلیتوں میں شادی کی کم از کم عمر میں اضافے اور جووینائل جسٹس سسٹم کے فروغ کے لیے اصلاحات بھی متعارف کرائی گئیں۔ زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری ایکٹ بچوں کے اغوا اور استحصال کے خلاف مرکزی قانون کے طور پر نافذ العمل ہے۔
بیرسٹر عقیل ملک نے جووینائل جسٹس سسٹم ایکٹ 2018 پر عملدرآمد کے حوالے سے آگاہ کیا کہ قومی رابطہ کمیٹی قوانین پر عملدرآمد کے یکساں ضوابط کو حتمی شکل دے رہی ہے تاکہ تمام صوبوں میں بچوں کو مساوی تحفظ حاصل ہو۔
پالیسی سطح پر زینب الرٹ موبائل ایپلی کیشن کے اجرا کو نمایاں کیا گیا، جو بچوں کے ساتھ زیادتی اور غفلت کی فوری رپورٹنگ میں مدد فراہم کرتی ہے۔ سارہ احمد نے بچوں کے تحفظ کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی اور صوبائی اقدامات پر روشنی ڈالی۔
کمزور طبقات کو انصاف کی فراہمی کے لیے لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی مفت قانونی معاونت فراہم کر رہی ہے، جبکہ بینظیر نشوونما پروگرام بچوں میں غذائی قلت اور نشوونما کی کمی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ حکومت نے 2024 میں تعلیمی ایمرجنسی کے نفاذ کا اعادہ کرتے ہوئے اسکول سے باہر بچوں کے مسئلے سے نمٹنے کے عزم کا اظہار کیا۔
سیکرٹری وزارتِ انسانی حقوق عبدالخالق شیخ نے اسکولوں کے تحفظ، قومی کمیشنز کے باہمی تعاون، نیشنل میکانزم فار رپورٹنگ اینڈ فالو اپ، اور بچوں کے حقوق کے لیے بجٹ میں اضافے پر روشنی ڈالی، جس میں پنجاب میں 25 فیصد اضافہ شامل ہے۔
حکومتِ پاکستان نے اعتراف کیا کہ غربت، دہشت گردی، علاقائی عدم استحکام اور قدرتی آفات بچوں کے حقوق کے حصول میں چیلنجز ہیں، تاہم حکومت نے تمام بچوں کے وقار، تحفظ اور فلاح کے لیے اپنی غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ کیا۔


