عالمیقومی

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معدنیات اور پٹرولیم کے شعبے میں تعاون مزید مستحکم، مشترکہ سرمایہ کاری پر اتفاق

وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور سعودی وزیر صنعت کی ملاقات، معدنی وسائل اور توانائی کے شعبے میں اشتراک بڑھانے پر زور

پاکستان اور سعودی عرب نے معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دینے، مشترکہ سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے اور معدنی ویلیو چین میں شراکت داری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔ اس پیش رفت کا اظہار سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں منعقدہ فیوچر منرلز فورم (FMF) 2026 کے موقع پر کیا گیا۔

وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرویز ملک اس وقت ریاض میں ہیں جہاں وہ پاکستانی وفد کی قیادت کرتے ہوئے فورم میں شرکت کر رہے ہیں۔ یہ فورم سعودی عرب کی وزارتِ صنعت و معدنی وسائل کے زیر اہتمام منعقد ہوا۔ فورم کے موقع پر وفاقی وزیر نے سعودی وزیر صنعت و معدنی وسائل بندر ابراہیم الخریف سے تفصیلی ملاقات کی۔

ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے معدنیات کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے، مشترکہ منصوبوں، سرمایہ کاری کے امکانات اور جدید ٹیکنالوجی کے تبادلے پر گفتگو کی۔ سعودی وزیر نے فورم میں پاکستان کی شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پر معدنیات اور اہم معدنی وسائل کی جانب توجہ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، اور اس تناظر میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعاون کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

سعودی وزیر صنعت و معدنی وسائل نے یقین دہانی کرائی کہ سعودی عرب کی تکنیکی مہارت، تحقیقاتی وسائل اور علمی تجربہ پاکستان کے معدنی شعبے کی ترقی کے لیے دستیاب رہے گا۔ انہوں نے پاکستان کی نوجوان اور متحرک افرادی قوت کو ایک قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قوت مستقبل کی مشترکہ کامیابیوں میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان معدنیات کے شعبے میں سعودی عرب کے ساتھ تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جیالوجیکل سروے آف پاکستان اور سعودی جیالوجیکل سروے کے درمیان تعاون کے امکانات پر کام جاری ہے۔

وفاقی وزیر نے پاکستان میں موجود تھی تھین بیلٹ کی بے پناہ معدنی صلاحیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ریکوڈک اس خطے کا صرف ایک حصہ ہے جبکہ اس کے علاوہ بھی معدنی ذخائر کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کھاد کی تیاری اور طبی آلات کی صنعت میں بھی مشترکہ منصوبے شروع کیے جا سکتے ہیں۔

پاکستانی وفد میں سینئر پالیسی ساز، سرکاری اداروں کے سربراہان، نجی شعبے کے نمائندے اور کان کنی کے شعبے سے وابستہ اہم اسٹیک ہولڈرز شامل ہیں جن میں پی پی ایل، او جی ڈی سی ایل، ماری انرجیز، جی ایچ پی ایل، ایف ڈبلیو او، پی ایم ڈی سی، سیندک میٹلز اور بلوچستان کی معدنی کمپنیوں کے علاوہ خصوصی سروس فراہم کرنے والے ادارے بھی شامل ہیں۔

فیوچر منرلز فورم 2026 میں پاکستان کی شرکت کا اہتمام پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (PPL) نے وزارتِ توانائی (پٹرولیم ڈویژن) کے اشتراک سے کیا۔ “منرل مارول – پاکستان کی معدنی انقلاب کی نئی جہت” کے عنوان سے قائم پاکستان پویلین میں ملک کی متنوع جیولوجی، نمایاں کان کنی منصوبے اور سرمایہ کاری کے مواقع پیش کیے جا رہے ہیں۔

اس موقع پر سعودی عرب کے پاکستان میں سفیر نواف بن سعید المالکی نے پاکستانی وفد کا خیرمقدم کیا اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور وفاقی وزیر علی پرویز ملک کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ FMF 2026 میں پاکستان کی شرکت دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنائے گی۔

سعودی وزیر بندر ابراہیم الخریف نے پاکستان پویلین کا دورہ بھی کیا اور اس کے منفرد ڈیزائن، مؤثر ویژول پریزنٹیشن اور پاکستانی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button