عالمیقومی

سندھ طاس معاہدے کی معطلی خطے کے امن اور پاکستان کے آبی حقوق کے لیے سنگین خطرہ ہے، احسن اقبال

بھارت کی آبی جارحیت کا مقصد پاکستان کو پانی کے بحران سے دوچار کرنا ہے، موسمیاتی تبدیلی سے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، وفاقی وزیر کا نیشنل واٹر سکیورٹی ٹاسک فورس اجلاس سے خطاب

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی خطے کے امن، علاقائی استحکام اور پاکستان کے آبی حقوق کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کی آبی جارحیت کا بنیادی مقصد پاکستان کو شدید پانی کے بحران سے دوچار کرنا ہے، جو نہ صرف زراعت بلکہ ملکی معیشت اور قومی سلامتی کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

وفاقی وزیر نے یہ بات منگل کے روز ٹاسک فورس برائے نیشنل واٹر سکیورٹی کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے آبی وسائل میاں محمد معین وٹو، چیئرمین واپڈا، ارسا، نیشنل فلڈ کمیشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گلیشیئرز کے پگھلاؤ میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ہندوکش اور ہمالیہ ریجن میں برف پگھلنے کی شرح میں 65 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ سیاچن گلیشیئر سالانہ 50 سے 60 میٹر کی رفتار سے پگھل رہا ہے۔ اسی طرح ہمالیہ کے پہاڑی علاقوں میں برف کے پگھلاؤ کی شرح 30 میٹر سالانہ تک پہنچ چکی ہے۔

وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ 1960 سے اب تک گلیشیئرز کی تقریباً 23 فیصد برف پگھل کر ضائع ہو چکی ہے، جو مستقبل میں پاکستان کو طویل المدتی آبی قلت کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریاؤں کے بہاؤ میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

احسن اقبال نے زور دیتے ہوئے کہا کہ پانی کا تحفظ ہی غذائی سلامتی، توانائی کے استحکام اور معاشی ترقی کی ضمانت ہے۔ انہوں نے وفاق اور صوبوں کے درمیان نیشنل واٹر پالیسی پر مکمل ہم آہنگی پیدا کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ واٹر سکیورٹی کسی ایک شعبے کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پاکستان کی بقا اور خودمختاری کی بنیاد ہے۔

انہوں نے وزارت آبی وسائل کے تحت ایک خصوصی ورکنگ گروپ قائم کرنے اور 51 دن کے اندر قابلِ عمل سفارشات پلاننگ کمیشن کو پیش کرنے کی ہدایت کی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ٹاسک فورس صرف مسائل کی نشاندہی تک محدود نہ رہے بلکہ فوری، عملی اور قابلِ عمل حل بھی تجویز کرے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کا تقریباً 80 فیصد پانی دریاؤں سے حاصل ہوتا ہے جبکہ بڑھتی ہوئی آبادی اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث ملک شدید آبی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ واٹر مینجمنٹ کے مالیاتی ماڈل کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جا رہا ہے تاکہ مستقبل کے چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے۔

انہوں نے دریاؤں میں آلودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قیمتی میٹھا پانی ضائع ہو کر سمندر میں جا رہا ہے، جو ناقابلِ قبول ہے۔ فائیو ایز فریم ورک میں پانی کے تحفظ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے یونیورسٹیوں اور آبی ماہرین پر زور دیا کہ وہ مل کر آبی تحفظ کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی کریں۔

پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ ملک میں نئے ڈیمز کی تعمیر وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز پاکستان میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانے میں سنگِ میل ثابت ہوں گے۔ انہوں نے چیئرمین واپڈا، ارسا، نیشنل فلڈ کمیشن اور صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی ماہرانہ تجاویز ورکنگ گروپ کو فراہم کریں۔

وفاقی وزیر نے پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے واضح ٹائم ٹیبل مقرر کرنے اور عملی اقدامات کو یقینی بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ آبی چیلنجز اور خطرات کا تدارک قومی ترجیح کے طور پر کیا جائے گا۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button