پاکستان اور ازبکستان کے دسویں بین الحکومتی کمیشن اجلاس میں اسٹریٹجک اقتصادی شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ
اسلام آباد میں منعقدہ اجلاس میں تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، توانائی، تعلیم، ماحولیاتی تحفظ اور علاقائی رابطہ کاری کے فروغ پر جامع اتفاق

پاکستان اور ازبکستان کے درمیان تجارت، اقتصادی، سائنسی اور تکنیکی تعاون کے فروغ کے لیے پاکستان-ازبکستان بین الحکومتی کمیشن کا 10واں اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان اور جمہوریہ ازبکستان کے وزیر برائے سرمایہ کاری، صنعت و تجارت لازیز قدرتوف نے کی۔ اجلاس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام اور متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران پاکستان اور ازبکستان کے دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا اور اقتصادی و سماجی شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے مستقبل پر مبنی لائحہ عمل طے کیا گیا۔ فریقین نے 2025 میں ہونے والے گزشتہ بین الحکومتی کمیشن اجلاس کے بعد ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ باہمی سیاسی اعتماد کو ٹھوس اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کیا جائے گا۔
اجلاس میں ترجیحی تجارتی معاہدے کی اہمیت پر زور دیا گیا اور فیز ٹو مراعات کے تحت ہونے والی پیش رفت کو سراہا گیا۔ دونوں ممالک نے دوطرفہ تجارت کے متفقہ ہدف دو ارب امریکی ڈالر کے حصول کے لیے ادارہ جاتی طریقہ کار کو تیز کرنے پر اتفاق کیا۔ اس مقصد کے لیے تجارتی سہولت کاری، لاجسٹکس میں بہتری، کسٹمز کے نظام کی ڈیجیٹلائزیشن، ٹرانزٹ ٹریڈ تعاون اور علاقائی تجارتی راہداریوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دینے پر اتفاق ہوا۔ کاروباری برادری کے درمیان روابط بڑھانے اور ویزا سہولت کاری کو مزید مؤثر بنانے پر بھی زور دیا گیا۔
محنت کشوں سے متعلق شعبے میں فریقین نے پہلے مشترکہ ورکنگ گروپ کے قیام پر اتفاق کیا جو لیبر موبلٹی، مہارتوں کی ترقی، کام کی جگہ پر تحفظ، اور روزگار ویزوں سے متعلق عملی امور پر توجہ دے گا۔ اس اقدام کو دونوں ممالک کے درمیان انسانی وسائل کے تبادلے اور ہنرمند افرادی قوت کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا گیا۔
ٹرانسپورٹ اور مواصلات کے شعبے میں اجلاس کے دوران براہ راست فضائی سروسز کے آغاز میں دلچسپی کا خیرمقدم کیا گیا۔ علاقائی ریلوے اور رابطہ جاتی منصوبوں میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور علاقائی تجارت اور ٹرانزٹ روابط کو بہتر بنانے کے لیے متبادل ٹرانسپورٹ راہداریوں کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔
زراعت اور غذائی تحفظ اجلاس کا نمایاں پہلو رہا۔ ازبکستان سے پاکستان پھلوں کی برآمد کے لیے فائیٹو سینیٹری پروٹوکولز میں ہونے والی پیش رفت کو سراہا گیا۔ فریقین نے پودوں کے تحفظ، مویشیوں کی ترقی، زرعی تحقیق اور تکنیکی تعاون کے فروغ کے لیے اضافی پروٹوکولز اور مشترکہ ورکنگ گروپس کے قیام پر اتفاق کیا۔ ان اقدامات کا مقصد غذائی تحفظ کو یقینی بنانا اور پائیدار زرعی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
اعلیٰ تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دونوں ممالک کے ممتاز تعلیمی اور تحقیقی اداروں کے درمیان شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ مشترکہ تحقیق، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلے، فنی و پیشہ ورانہ تربیت، جدت اور استعداد سازی کے فروغ پر زور دیا گیا تاکہ انسانی وسائل کی طویل المدتی ترقی ممکن بنائی جا سکے۔
ماحولیاتی اور موسمیاتی تعاون کو مشترکہ ترجیح قرار دیا گیا۔ موسمیاتی مزاحمت، برفانی ماحولیاتی نظام کے تحفظ، پائیدار آبی انتظام، ماحولیاتی گورننس، صنفی شمولیت پر مبنی موسمیاتی اقدامات اور کمیونٹی سطح پر موافقتی حکمت عملیوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
دواسازی، توانائی و معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیلی کمیونیکیشن، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار، صنعت، بینکاری اور مالیات کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ مشترکہ ورکنگ گروپس کو مضبوط بنانے، ڈیجیٹلائزیشن، جدت، صنعتی شراکت داریوں اور بینکاری تعاون کے فروغ کو اہم قرار دیا گیا۔
ہارون اختر خان اور لازیز قدرتوف نے پاکستان اور ازبکستان کے مضبوط دوطرفہ تعلقات کی توثیق کرتے ہوئے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اجلاس میں کیے گئے فیصلے دونوں ممالک میں پائیدار اقتصادی ترقی اور نجی شعبے کی شمولیت کو فروغ دیں گے۔ فریقین نے باہمی مشاورت سے طے شدہ تاریخوں پر تاشقند میں بین الحکومتی کمیشن کا 11واں اجلاس منعقد کرنے پر اتفاق کیا۔



