وفاقی وزیر احسن اقبال کا جائزہ اجلاس: ’’اڑان پاکستان‘‘ کے تحت 2035ء تک ٹریلین ڈالر کی معیشت کا ہدف
سالانہ منصوبہ 2025-26 کے وسط مدتی جائزے کا اجلاس وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت سالانہ منصوبہ 2025-26 کے وسط مدتی جائزے کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں تمام وزارتوں اور ڈویژنز کے سیکرٹریز، سینئر سرکاری افسران، پلاننگ کمیشن کے ارکان اور صوبائی حکومتوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال کی زیر صدارت سالانہ منصوبہ 2025-26 کے وسط مدتی جائزے کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں تمام وزارتوں اور ڈویژنز کے سیکرٹریز، سینئر سرکاری افسران، پلاننگ کمیشن کے ارکان اور صوبائی حکومتوں کے نمائندگان سمیت متعلقہ سٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ منصوبہ بندی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے ایک نئی روایت کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہر سال بجٹ کے موقع پر سالانہ ترقیاتی منصوبہ ترتیب دیا جاتا ہے، جس کے ذریعے قومی معاشی اہداف کا تعین اور وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ماضی میں یہ جائزہ سالانہ بنیادوں پر لیا جاتا رہا ہے، تاہم اب اسے مزید موثر اور نتائج پر مبنی بنانے کے لیے فیصلہ کیا گیا ہے کہ سالانہ ترقیاتی منصوبے کا سہ ماہی جائزہ لیا جائے گا تاکہ قومی اہداف بروقت حاصل کیے جا سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ گورننس صرف اہداف کے حصول تک محدود نہیں بلکہ ادارہ جاتی صلاحیت سازی کا نام ہے تاکہ موجودہ اور مستقبل کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
احسن اقبال نے بتایا کہ سالانہ ترقیاتی منصوبہ ملکی معیشت کے لیے رہنما فریم ورک کی حیثیت رکھتا ہے اور پانچ سالہ ترقیاتی اہداف کے حصول کا واضح راستہ فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اڑان پاکستان‘‘ اقدام کے تحت 2035ء تک پاکستان کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ان اہداف کے حصول اور موثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ جائزہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد بیشتر سماجی و معاشی شعبے صوبائی دائرہ اختیار میں آ چکے ہیں، لہٰذا قومی معاشی اہداف کے حصول کے لیے وفاق اور صوبوں کے درمیان قریبی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ انہوں نے زراعت، خدمات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سماجی شعبے کو معیشت کی بہتری کے کلیدی محرکات قرار دیا اور کہا کہ ان شعبوں میں پیداواریت کے بغیر پائیدار معاشی ترقی ممکن نہیں۔
اجلاس کے دوران چیف اکنامسٹ ڈاکٹر امتیاز احمد نے سالانہ منصوبہ 2025-26 کے پہلے نصف سال کے دوران معاشی و ترقیاتی پیش رفت اور درپیش چیلنجز پر بریفنگ دی۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ سیلابوں سے تقریباً 65 لاکھ افراد متاثر ہوئے، ایک ہزار سے زائد جانیں ضائع ہوئیں اور تقریباً 33 لاکھ ایکڑ زرعی اراضی کو نقصان پہنچا۔ مویشیوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی شدید نقصان ہوا اور مجموعی معاشی نقصان تقریباً 822 ارب روپے تخمیناً ہے۔
چیف اکانومسٹ نے اجلاس کو بتایا کہ وزارت منصوبہ بندی نے یورپی یونین، عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرامز کے تعاون سے ایک جامع رپورٹ تیار کی ہے جو آئندہ ماہ کے اختتام تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے معاشی اشاریوں کے حوالے سے قیمتوں میں استحکام، پالیسی ریٹ میں کمی، صنعتی شعبے کے لیے توانائی ٹیرف میں کمی، بڑے صنعتی اداروں کی کارکردگی اور ترسیلات زر میں اضافے پر روشنی ڈالی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ آئندہ تفصیلی جائزہ اجلاسوں میں وزارتیں نہ صرف اپنے اہداف کے مقابلے میں پیش رفت سے آگاہ کریں گی بلکہ عملدرآمد میں درپیش رکاوٹوں اور خامیوں کے ازالے کے لیے اصلاحی تجاویز بھی پیش کریں گی۔ ان سہ ماہی جائزہ اجلاسوں سے کارکردگی، احتساب اور نظام ترسیل میں نمایاں بہتری آئے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ پانچ سالہ منصوبے کے اہداف کو اڑان پاکستان فریم ورک سے ہم آہنگ کر دیا گیا ہے اور جائزہ عمل کے دوران یہ دیکھا جائے گا کہ کون سے اہداف مکمل ہو چکے ہیں اور کن کے لیے مزید کوشش درکار ہے۔ اس بنیاد پر حکمت عملی کو بہتر بنایا جائے گا اور وزارتوں کی کارکردگی پر مبنی جامع رپورٹ وزیر اعظم کو پیش کی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے منصوبہ بندی و ترقی کے نظم و ضبط کو مضبوط بنانے، وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی اور ترقیاتی ترجیحات کے بروقت نفاذ کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ ملک میں پائیدار اور جامع معاشی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔


