Businessعالمی

وزیرِ اعظم کی آئی ایم ایف ایم ڈی سے ملاقات

معاشی اشاریوں میں بہتری، اصلاحات اور استحکام سے متعلق پیش رفت سے آگاہ کیا

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے عالمی اقتصادی فورم کے 56ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر ڈیووس، سوئٹزرلینڈ میں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کی، جس میں پاکستان کی معیشت میں بہتری، میکرو اکنامک اشاریوں میں مثبت رجحان، معاشی استحکام اور ساختی اصلاحات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیرِ اعظم نے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کو آگاہ کیا کہ حکومتِ پاکستان نے حالیہ مہینوں میں مشکل مگر ضروری فیصلے کرتے ہوئے معیشت کو استحکام کی راہ پر گامزن کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افراطِ زر میں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے پر قابو اور روپے کی قدر میں استحکام جیسے اشاریے اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومتی پالیسیوں کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔

شہباز شریف نے اس موقع پر مالی نظم و ضبط، محصولات میں اضافے، ٹیکس نیٹ کے پھیلاؤ اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے عزم کا اعادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پائیدار معاشی ترقی کے لیے قلیل المدتی اقدامات کے ساتھ ساتھ طویل المدتی اصلاحات پر بھی بھرپور توجہ دے رہی ہے تاکہ معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جا سکے۔

وزیرِ اعظم نے بتایا کہ کاروباری ماحول کو بہتر بنانے، نجی شعبے کی حوصلہ افزائی، برآمدات میں اضافے اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے اصلاحاتی ایجنڈے پر تیزی سے عملدرآمد جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مشکل حالات سے نکل کر معاشی بحالی کی جانب بڑھ رہا ہے اور اس عمل میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں کا تعاون اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

ملاقات میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ بھی موجود تھے۔ حکومتی وفد نے آئی ایم ایف قیادت کو مختلف شعبوں میں اصلاحات کی پیش رفت سے آگاہ کیا اور مستقبل کے لائحہ عمل پر بھی گفتگو کی۔

آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے پاکستان کی جانب سے معاشی اصلاحات اور نظم و ضبط کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اصلاحاتی عمل کی رفتار کو برقرار رکھنا طویل المدتی معاشی استحکام کے لیے نہایت ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلسل اصلاحات، شفافیت اور پالیسیوں کا تسلسل پاکستان کو معاشی لچک فراہم کرنے میں مدد دے گا۔

ملاقات کے دوران عالمی اقتصادی صورتحال، ابھرتی معیشتوں کو درپیش چیلنجز اور عالمی سطح پر معاشی عدم یقینی کے اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موجودہ عالمی حالات میں کثیرالجہتی تعاون اور عالمی مالیاتی اداروں کا کردار مزید اہم ہو چکا ہے تاکہ ترقی پذیر ممالک کو معاشی استحکام فراہم کیا جا سکے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر اقتصادی اصلاحات اور ترقی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئی ایم ایف اور دیگر عالمی اداروں کے تعاون سے پاکستان نہ صرف موجودہ چیلنجز پر قابو پائے گا بلکہ پائیدار ترقی کے اہداف بھی حاصل کرے گا۔

واضح رہے کہ وزیرِ اعظم کی یہ ملاقات عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر اہم سفارتی اور معاشی روابط کے سلسلے کی کڑی ہے، جس کا مقصد پاکستان کی معاشی پوزیشن کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان مثبت روابط پاکستان کی معیشت کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہو سکتے ہیں اور مستقبل میں استحکام و ترقی کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button