کسٹمز کراچی کی بڑی کارروائی، منشیات اسمگلنگ کی دو کوششیں ناکام، 57 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی چرس برآمد
امریکا سے آنے والے مشکوک پارسلز میں چھپی 1.87 کلوگرام چرس ضبط، بین الاقوامی ڈاک کے ذریعے اسمگلنگ کا نیٹ ورک بے نقاب ت

کسٹمز کراچی نے منشیات اسمگلنگ کے خلاف ایک اہم کارروائی کرتے ہوئے بین الاقوامی ڈاک کے ذریعے چرس اسمگل کرنے کی دو الگ الگ کوششیں ناکام بنا دیں۔ ایئر کارگو کنٹرول یونٹ (اے سی سی یو)، کلکٹریٹ آف کسٹمز (ایئرپورٹ) کراچی نے ان کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 1.87 کلوگرام چرس برآمد کی، جس کی مالیت تقریباً 57 کروڑ 43 لاکھ روپے بتائی جا رہی ہے۔
کسٹمز حکام کے مطابق یہ برآمدگیاں انٹرنیشنل میل آفس (آئی ایم او) کراچی میں معمول کی اسکیننگ اور مشکوک پارسلز کے جسمانی معائنے کے دوران عمل میں آئیں۔ دونوں پارسلز امریکا سے پاکستان بھیجے گئے تھے اور انہیں مختلف اشیا کے نام پر غلط طور پر ڈکلیئر کیا گیا تھا تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظر سے بچا جا سکے۔
پہلے کیس میں ایک ایسا پارسل پکڑا گیا جسے ’’شرٹس‘‘ قرار دیا گیا تھا، تاہم تفصیلی جانچ پڑتال پر اس میں سے 370 گرام چرس برآمد ہوئی، جس کی مالیت تقریباً 11 کروڑ 36 لاکھ روپے ہے۔ منشیات کو نہایت مہارت کے ساتھ پیک کیا گیا تھا تاکہ اسکیننگ کے عمل میں مشتبہ نہ لگے، تاہم کسٹمز اہلکاروں کی پیشہ ورانہ مہارت نے اسمگلرز کی کوشش ناکام بنا دی۔
دوسرے کیس میں ایک اور پارسل جسے ’’نائیلون قالین کے نمونے‘‘ ظاہر کیا گیا تھا، کسٹمز کی نظر میں آ گیا۔ جسمانی معائنے کے دوران اس پارسل سے 1.5 کلوگرام چرس برآمد کی گئی، جس کی مالیت تقریباً 46 کروڑ 7 لاکھ روپے ہے۔ حکام کے مطابق یہ حالیہ مہینوں میں بین الاقوامی ڈاک کے ذریعے منشیات اسمگلنگ کی بڑی کوششوں میں سے ایک ہے۔
کسٹمز حکام کا کہنا ہے کہ دونوں کارروائیاں اسسٹنٹ کلیکٹر اے سی سی یو کی نگرانی میں روزانہ کی بنیاد پر کی جانے والی رسک پروفائلنگ اور معائنے کے عمل کے دوران انجام دی گئیں۔ جدید اسکیننگ آلات، خفیہ معلومات اور تربیت یافتہ عملے کی مدد سے مشکوک پارسلز کی بروقت نشاندہی ممکن ہوئی۔
برآمد ہونے والی منشیات کو متعلقہ قوانین کے تحت تحویل میں لے لیا گیا ہے جبکہ ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ تفتیشی حکام یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ پارسلز کس نیٹ ورک کے تحت بھیجے گئے، ان کے مقامی وصول کنندگان کون تھے اور آیا اس کے پیچھے کسی منظم بین الاقوامی اسمگلنگ گروہ کا ہاتھ ہے۔
کسٹمز ذرائع کے مطابق حالیہ عرصے میں اسمگلرز کی جانب سے بین الاقوامی ڈاک اور کورئیر سروسز کو منشیات کی ترسیل کے لیے استعمال کرنے کے رجحان میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ عام استعمال کی اشیا کے نام پر پارسلز بھیج کر منشیات چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے، تاہم کسٹمز کے سخت اور مربوط اقدامات کی وجہ سے ایسے ہتھکنڈے مسلسل ناکام ہو رہے ہیں۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اپنے بیان میں اسمگلنگ، منشیات کی ترسیل اور غیر قانونی تجارت کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کو دہرایا ہے۔ ایف بی آر کے مطابق ہوائی اڈوں، بندرگاہوں، زمینی سرحدوں اور بین الاقوامی ڈاک کے تمام ذرائع پر نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ ملک کو منشیات جیسے ناسور سے محفوظ رکھا جا سکے۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کامیاب کارروائیاں نہ صرف منشیات کو عوام تک پہنچنے سے روکتی ہیں بلکہ بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہیں کہ پاکستانی سرحدیں اور ڈاک کے نظام ان کے لیے محفوظ نہیں رہے۔
کسٹمز حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کورئیر یا ڈاک کے ذریعے کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ ملک میں منشیات کے خاتمے کی کوششوں کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔


