قومی

موسمِ سرما میں بھی سپریم کورٹ فعال، 419 مقدمات نمٹا دیے گئ

سپریم کورٹ آف پاکستان کا سرمائی تعطیلات کے دوران عدالتی رسائی یقینی بنانے کا عزم، دسمبر 2025 میں 646 مقدمات دائر اور 672 سماعت کے لیے مقرر

سپریم کورٹ آف پاکستان نے موسمِ سرما کی تعطیلات کے دوران بھی عدالتی نظام کو فعال رکھتے ہوئے عوام کو بروقت انصاف کی فراہمی یقینی بنائی۔ عدالتِ عظمیٰ کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق سرمائی سیشن کے دوران نہ صرف عدالتی کارروائیاں جاری رہیں بلکہ ملک بھر میں سینکڑوں مقدمات کی سماعت اور فیصلے بھی کیے گئے، جو عدلیہ کی پیشہ ورانہ ذمہ داری، مؤثر کیس مینجمنٹ اور ادارہ جاتی تسلسل کا واضح ثبوت ہیں۔

پریس ریلیز کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان 18 دسمبر سے 31 دسمبر 2025 تک سرمائی سیشن کے دوران مکمل طور پر فعال رہی۔ اس دوران اسلام آباد میں واقع پرنسپل سیٹ کے علاوہ لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں قائم برانچ رجسٹریز میں بھی عدالتی بنچز نے کام جاری رکھا۔ عدالت کے اس اقدام کا بنیادی مقصد شہریوں کو عدالتی تعطیلات کے باوجود انصاف تک رسائی فراہم کرنا تھا۔

سرمائی تعطیلات کے باوجود عبوری مدت میں عدالتی نظام میں تسلسل برقرار رکھا گیا۔ اس دوران مقدمات باقاعدگی سے دائر کیے گئے، سماعت کے لیے مقرر ہوئے اور فیصلے بھی سنائے گئے۔ اعداد و شمار کے مطابق اس مختصر عرصے میں مجموعی طور پر 646 مقدمات دائر کیے گئے، 672 مقدمات کو سماعت کے لیے مقرر کیا گیا جبکہ ملک بھر میں 419 مقدمات نمٹائے گئے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ عدالتی سرگرمیاں تعطیلات کے باوجود پوری طرح جاری رہیں۔

عدالتِ عظمیٰ کے بنچز نے فوری نوعیت کے مقدمات کے ساتھ ساتھ پہلے سے طے شدہ کیسز کی سماعت بھی مقررہ ضابطہ کار کے مطابق کی۔ عدالتی نظام میں شفافیت اور نظم و ضبط کو برقرار رکھتے ہوئے اہم قانونی امور کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا گیا تاکہ عوام کو غیر ضروری تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

رجسٹری دفاتر نے بھی اس دوران مکمل انتظامی معاونت فراہم کی۔ مقدمات کی فہرست سازی، سماعتوں کا انعقاد اور عدالتی احکامات کا اجرا بغیر کسی تعطل کے جاری رہا۔ انتظامی عملے کی مسلسل دستیابی نے اس امر کو یقینی بنایا کہ عدالتی فیصلے اور احکامات بروقت جاری ہوں اور وکلاء و سائلین کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

پریس ریلیز میں مزید بتایا گیا کہ دسمبر 2025 کے دوران عدالتی کارکردگی گزشتہ برسوں کے مقابلے میں مستحکم رہی۔ اعداد و شمار کے مطابق 2023 میں اسی مدت کے دوران 181 مقدمات نمٹائے گئے تھے جبکہ 2024 میں یہ تعداد 468 رہی۔ دسمبر 2025 میں 419 مقدمات کا فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سپریم کورٹ نے موسمِ سرما کی تعطیلات کے باوجود عدالتی آؤٹ پٹ کو برقرار رکھا اور عدالتی بوجھ کو مؤثر انداز میں سنبھالا۔

عدالتی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کا یہ اقدام انصاف کی بلا تعطل فراہمی کے اصول کو مضبوط کرتا ہے۔ تعطیلات کے دوران عدالتی سرگرمیوں کا تسلسل نہ صرف زیر التوا مقدمات میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے بلکہ عوام کے عدالتی نظام پر اعتماد کو بھی فروغ دیتا ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ موسمِ سرما کے وقفے کے دوران عدالتی کام جاری رکھنا اس کے ادارہ جاتی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ عدالت مؤثر کیس مینجمنٹ، ذمہ دارانہ عدالتی انتظام اور عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کرتی رہے گی تاکہ انصاف کی فراہمی کسی بھی مرحلے پر متاثر نہ ہو۔

عدالتِ عظمیٰ کے مطابق عدالتی کیلنڈر سے ہٹ کر بھی کام جاری رکھنا اس بات کا مظہر ہے کہ سپریم کورٹ بدلتے ہوئے حالات اور عوامی ضروریات کے مطابق خود کو ہم آہنگ کر رہی ہے۔ اس عمل سے نہ صرف فوری نوعیت کے مقدمات نمٹانے میں سہولت ملتی ہے بلکہ مجموعی طور پر عدالتی نظام کی کارکردگی میں بھی بہتری آتی ہے۔

قانونی حلقوں نے سپریم کورٹ کے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ تعطیلات کے دوران عدالتی رسائی برقرار رکھنا ایک مثبت اور عوام دوست قدم ہے۔ اس سے شہریوں کو بروقت انصاف میسر آتا ہے اور زیر التوا مقدمات میں کمی واقع ہوتی ہے، جو ملکی عدالتی نظام کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔

سپریم کورٹ کے سرمائی سیشن کے دوران فعال کردار نے یہ واضح کر دیا ہے کہ عدالت انصاف کی فراہمی کو اپنی اولین ترجیح سمجھتی ہے۔ یہ اقدام اس عزم کی توثیق ہے کہ عدالتی نظام کسی بھی صورت میں تعطل کا شکار نہیں ہوگا اور عوام کو ہر ممکن سہولت فراہم کی جاتی رہے گی

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button