مصطفِی ذَرّف کو KKR ٹیم سے ریلیز — بھارت کی دوہرے معیار پر تنازع، ورلڈ کپ میچز میں بنگلہ دیش کے امکانات کم
BCCI کے ہدایت پر بنگلہ دیشی فاسٹ بولر مصطفِی ذَرّف کو IPL 2026 سے باہر رکھا گیا، بھارتی پالیسیوں پر سوالات اٹھنے لگے۔

آج کولکاتا نائٹ رائیڈرز (KKR) نے آفیشل طور پر اعلان کیا ہے کہ بنگلہ دیش کے تیز گیندباز مصطفِی ذَرّف کو IPL 2026 سیزن کے لیے اپنی اسکواڈ سے ریلیز کیا گیا ہے۔ یہ قدم Board of Control for Cricket in India (BCCI) کی ہدایت کے بعد اٹھایا گیا، جس نے متعدد سیاسی اور سماجی دباؤ کے باعث ٹیم سے ذَرّف کو باہر رکھنے کا کہا۔
KKR نے ایک بیان میں کہا کہ BCCI/IPL نے باقاعدہ طور پر کہا ہے کہ ذَرّف کو سکواڈ سے خارج کیا جائے اور ضرورت پڑنے پر ایک ریپلیسمنٹ پلیئر لینے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔
ذَرّف کو آبُوظہبی میں ہونے والی IPL 2026 منی آکشن میں ₹9.20 کروڑ میں خریدا گیا تھا، جو انہیں بنگلہ دیش کے ان چند کھلاڑیوں میں سے ایک بناتا تھا جنہوں نے بھارت کی سب سے بڑی T20 لیگ میں جگہ بنائی۔
اس فیصلے کے بعد سوشل میڈیا اور شائقین کے حلقوں میں بحث شروع ہوگئی ہے کہ بھارت سپورٹس میں دوہرے معیار اپنا رہا ہے — کیونکہ سیاسی اور مذہبی دباؤ کے نتیجے میں ایک بین الاقوامی کھلاڑی کو IPL سے باہر رکھا گیا جبکہ دوسری صورتحالوں میں مختلف ملکوں کے کھلاڑیوں کو مواقع ملتے رہے۔
اسی طرح بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے لیے بھی بھارت میں ہونے والے بڑے ٹورنامنٹس میں شرکت کے امکانات پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی کشیدگی اور موجودہ حالات کے باعث BCCI یا دیگر بھارتی حکام بنگلہ دیش کو بڑے میچوں، مثلاً ICC ورلڈ کپ میچز کے میزبان مقام پر کھیلنے کی اجازت دینے میں کم دلچسپی دکھا سکتے ہیں، جس سے بنگلہ دیش کے کھلاڑیوں کے لیے بڑے ایونٹس میں شرکت کے چانسز پر اثر پڑ سکتا ہے۔ (تجزیاتی صورتحال)
یہ صورتحال اس سال کے اندر بھارت میں ہونے والے کرکٹ ایونٹس اور انٹرنیشنل فکسچرز کے بارے میں شائقین میں بے چینی پیدا کر رہی ہے، خاص طور پر ان کے لیے جو پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے پڑوسی ممالک کے خلاف کھیل دیکھنے کے منتظر تھے۔



