مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بھڑک اٹھی: ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں 1444 شہید، ایران کے جوابی میزائلوں سے اسرائیل اور خلیجی ممالک ہل کر رہ گئے
لبنان پر اسرائیلی بمباری میں 826 افراد جان سے گئے، ایران کی جوابی کارروائیوں سے اسرائیل سمیت متحدہ عرب امارات، بحرین، سعودی عرب اور کویت میں بھی ہلاکتیں

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جہاں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں اور اس کے جواب میں ایران کی جوابی کارروائیوں نے پورے خطے کو شدید بحران میں دھکیل دیا ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں ایران میں شہید ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 1444 ہو گئی ہے جبکہ ہزاروں افراد زخمی اور متعدد رہائشی و سرکاری عمارتیں تباہ ہو چکی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے مختلف فوجی اور اسٹریٹیجک مقامات کو نشانہ بنایا جن میں میزائل بیسز، دفاعی تنصیبات اور حساس مراکز شامل تھے۔ ان حملوں کے بعد ایران نے فوری اور سخت ردعمل دیتے ہوئے اسرائیل اور اس کے اتحادی ممالک کی جانب میزائل اور ڈرون حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔
ایران کی جوابی کارروائی کے نتیجے میں اسرائیل میں کم از کم 14 افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ مختلف شہروں میں خطرے کے سائرن بجنے کے بعد شہریوں کو فوری طور پر پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا جبکہ کئی علاقوں میں میزائل گرنے سے عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔
جنگ کے اثرات لبنان تک بھی پھیل چکے ہیں جہاں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں 826 افراد شہید ہو چکے ہیں۔ شدید بمباری کے باعث کئی رہائشی علاقے ملبے کا ڈھیر بن گئے اور ہزاروں افراد نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے لبنان میں پیدا ہونے والی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے۔
ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کے اثرات خلیجی ممالک میں بھی دیکھے جا رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات میں 6 افراد، بحرین میں 2، سعودی عرب میں 2 اور کویت میں 6 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ ان ممالک میں سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے اور فضائی دفاعی نظام کو فعال رکھا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس تنازع نے پورے مشرقِ وسطیٰ کو غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کر دیا ہے۔ کئی ممالک میں فضائی حدود اور اہم تنصیبات کی سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے جبکہ عالمی برادری کی جانب سے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کی اپیلیں بھی کی جا رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ مزید پھیلی تو اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی امن پر بھی پڑ سکتے ہیں، جس سے پوری دنیا ایک نئے بحران کی طرف بڑھ سکتی ہے۔



