تعلیم و صحتقومی

محمد خان ابڑو کی سوانح عمری کے پنجابی ترجمے “ہڈ بیتی” کی شاندار تقریبِ رونمائی

سندھی اور پنجابی ادب کے درمیان پل کا کردار، نامور ادیبوں، سیاستدانوں اور صحافیوں کی بھرپور شرکت

لاہور میں سندھ کے معروف ادیب، کالم نگار اور سماجی رہنما محمد خان ابڑو کی سوانح عمری کے پنجابی ترجمے پر مبنی کتاب “ہڈ بیتی” کی شاندار تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی۔ یہ تقریب ادبی، ثقافتی اور فکری لحاظ سے ایک اہم موقع قرار دی جا رہی ہے، جس میں ملک بھر سے نامور ادیبوں، دانشوروں، صحافیوں، سیاستدانوں اور سماجی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

کتاب کا پنجابی ترجمہ معروف محقق اور ادیب ڈاکٹر صغریٰ صدف نے کیا ہے، جنہوں نے اس موقع پر کہا کہ اس ترجمے کا مقصد صرف ایک کتاب کو دوسری زبان میں منتقل کرنا نہیں بلکہ سندھ اور پنجاب کے درمیان ثقافتی اور فکری فاصلے کو کم کرنا ہے۔ ان کے مطابق “ہڈ بیتی” ایک ایسی تصنیف ہے جو نہ صرف ایک فرد کی زندگی کی کہانی بیان کرتی ہے بلکہ پورے خطے کی سماجی حقیقتوں کی عکاسی بھی کرتی ہے۔

تقریب میں شریک اہم شخصیات میں قمر زمان کائرہ، چوہدری منظور، سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی، معروف فلم ساز سید نور، سیاسی رہنما حفیظ اللہ نیازی، اور دیگر ادبی و سماجی شخصیات شامل تھیں۔ اس موقع پر ادبی ماحول انتہائی پرجوش اور فکری گفتگو سے بھرپور تھا، جہاں مختلف مقررین نے کتاب کی اہمیت اور مصنف کی ادبی خدمات پر روشنی ڈالی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ “ہڈ بیتی” صرف ایک سوانح عمری نہیں بلکہ ایک سماجی دستاویز ہے جو سندھ کے معاشرتی، ثقافتی اور تاریخی پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کتاب کا پنجابی ترجمہ دونوں صوبوں کے درمیان ادبی روابط کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی خوبصورتی اس کی ثقافتی تنوع میں پوشیدہ ہے، اور جب مختلف زبانوں اور خطوں کا ادب ایک دوسرے تک پہنچتا ہے تو یہ قومی یکجہتی کو فروغ دیتا ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کی ادبی کاوشیں نہ صرف فاصلے کم کرتی ہیں بلکہ عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

سیاسی رہنما حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ محمد خان ابڑو سندھ کی ایک قابلِ تقلید شخصیت ہیں جن کی زندگی جدوجہد، سچائی اور سماجی شعور سے بھرپور ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہڈ بیتی” پنجاب کے قارئین کے لیے ایک متاثر کن کتاب ہے جو انہیں زندگی کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد دے گی۔

چوہدری منظور نے اپنے خطاب میں کہا کہ کسی سندھی مصنف کی کتاب کا پنجابی زبان میں ترجمہ ہونا ایک مثبت ادبی پیش رفت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عمل نہ صرف زبانوں کے درمیان ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے بلکہ ایک دوسرے کی ثقافت کو سمجھنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی نے اپنے خطاب میں تاریخی اور سماجی تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے مختلف خطوں کی اپنی اپنی ثقافتی شناخت ہے، اور ان شناختوں کو سمجھنا قومی اتحاد کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ادب ایک ایسا ذریعہ ہے جو معاشرتی فاصلے کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

معروف فلم ساز سید نور نے کہا کہ “ہڈ بیتی” پر ایک مکمل فلم بھی بنائی جا سکتی ہے، کیونکہ اس میں زندگی کے کئی رنگ، جذبات اور تجربات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر موقع ملا تو وہ اس کتاب کو فلمی شکل دینے کی کوشش کریں گے تاکہ اس کی کہانی زیادہ وسیع پیمانے پر لوگوں تک پہنچ سکے۔

دیگر مقررین نے بھی سندھ اور پنجاب کی ثقافتی ہم آہنگی پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے لوگ اپنی زبان، دھرتی اور ثقافت سے گہری وابستگی رکھتے ہیں، جبکہ پنجاب میں بھی ادب اور ثقافت کی ایک مضبوط روایت موجود ہے۔ تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں خطے ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھیں اور ثقافتی تبادلے کو فروغ دیں۔

تقریب کے دوران یہ بھی کہا گیا کہ پنجابی زبان میں ادبی تخلیقات کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے، کیونکہ اس سے نہ صرف زبان محفوظ رہتی ہے بلکہ نئی نسل بھی اپنی ثقافت سے جڑی رہتی ہے۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی اداروں میں علاقائی ادب کو شامل کیا جانا چاہیے تاکہ طلبہ مختلف زبانوں اور ثقافتوں سے آگاہ ہو سکیں۔

تقریب لاہور کے علاقے گلبرگ کے ایک پوش کلب میں منعقد ہوئی، جہاں ادبی، سماجی اور سیاسی حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ ماحول میں فکری گفتگو کے ساتھ ساتھ ادب سے محبت کا جذبہ نمایاں تھا۔

اختتامی کلمات میں محمد خان ابڑو کی ادبی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ مقررین نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان کی تحریریں مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو کر پاکستان کے ہر خطے تک پہنچیں گی اور لوگوں میں شعور، محبت اور فکری ہم آہنگی کو فروغ دیں گی۔

یہ تقریب اس بات کی علامت تھی کہ ادب صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ دلوں کو جوڑنے، معاشروں کو قریب لانے اور ثقافتوں کو سمجھنے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button