لاہور ٹریفک پولیس کا نیا یونیفارم 14 فروری سے نافذ، وزیراعلیٰ پنجاب کی باضابطہ منظوری
پہلے مرحلے میں تبدیلی صرف لاہور میں ہوگی، بعد ازاں پنجاب کے دیگر بڑے اضلاع تک توسیع، الیکٹرک پیٹرولنگ گاڑیوں کا آغاز بھی منصوبے کا حصہ

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبائی دارالحکومت لاہور کی ٹریفک پولیس کے لیے نئے یونیفارم کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد 14 فروری سے تمام ٹریفک وارڈنز نئی وردی میں فرائض انجام دیں گے۔ یہ فیصلہ ٹریفک پولیس کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور عوام کے ساتھ بہتر رابطہ قائم کرنے کی حکمتِ عملی کے تحت کیا گیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق نیا یونیفارم نہ صرف پہلے سے زیادہ باوقار اور آرام دہ ہوگا بلکہ اس میں موسمی حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے خصوصی فیبرک استعمال کیا گیا ہے تاکہ فیلڈ ڈیوٹی کرنے والے اہلکاروں کو سہولت میسر آ سکے۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ یونیفارم کی تبدیلی مرحلہ وار کی جائے گی۔ پہلے مرحلے میں صرف لاہور شہر کو شامل کیا گیا ہے جہاں ٹریفک کا دباؤ سب سے زیادہ ہے۔ دوسرے مرحلے میں فیصل آباد، گوجرانوالہ، ملتان اور راولپنڈی کے اضلاع میں ٹریفک پولیس کی وردی تبدیل کی جائے گی، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں یہ سلسلہ پنجاب کے تمام باقی اضلاع تک پھیلا دیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ٹریفک پولیس کی شناخت مزید واضح ہوگی اور شہریوں کو مدد کے حصول میں آسانی رہے گی۔
اس منصوبے کے ساتھ ساتھ حکومت نے ٹریفک پولیس کے لیے الیکٹرک پیٹرولنگ گاڑیوں کے آغاز کی بھی منظوری دی ہے۔ یہ گاڑیاں سیف سٹیز اتھارٹی کے مرکزی نظام سے منسلک ہوں گی جس کے ذریعے ٹریفک کی روانی، خلاف ورزیوں کی نگرانی اور ہنگامی صورتحال میں فوری ردِعمل کو یقینی بنایا جائے گا۔ جدید ٹیکنالوجی سے لیس ان گاڑیوں میں کیمرے، کمیونیکیشن سسٹم اور ڈیجیٹل مانیٹرنگ آلات نصب ہوں گے جو فیلڈ اہلکاروں کی کارکردگی کو مزید مؤثر بنائیں گے۔
حکومتی اندازوں کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال سے پیٹرول کی مد میں سالانہ لاکھوں روپے کی بچت ہوگی اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ یہ اقدام گرین اور کلین پنجاب وژن کا حصہ ہے جس کے تحت سرکاری اداروں کو ماحول دوست ذرائع اپنانے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس میں اصلاحات سے نہ صرف ٹریفک مینجمنٹ بہتر ہوگی بلکہ شہریوں کا پولیس پر اعتماد بھی بڑھے گا۔
شہری حلقوں نے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ نئے یونیفارم اور جدید پیٹرولنگ سسٹم سے ٹریفک قوانین پر عمل درآمد میں بہتری آئے گی۔ ٹریفک پولیس حکام کے مطابق اہلکاروں کو نئے نظام سے متعلق خصوصی تربیت بھی دی جا رہی ہے تاکہ وہ جدید آلات کا درست استعمال کر سکیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ عوامی خدمت کے اداروں کو جدید بنانا وقت کی ضرورت ہے اور یہ اقدام اسی سمت ایک اہم پیش رفت ہے۔


