علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری سے کھلی عالمی معیشت کی کامیابی کا اظہار
سڈنی (شِنہوا) علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری (آر سی ای پی) بدھ کے روز اپنے نفاذ کی تیسری سالگرہ منا رہی ہے۔ وسیع پیمانے پر تسلیم کیا جاتا ہے کہ اس معاہدے نے ثابت کیا ہے کہ یہ آزاد تجارت ، اقتصادی نمو اور مارکیٹ کی خوشحالی کے لئے مفید ہے۔ماہرین اور سکالرز نے علاقائی ممالک اور ان کے عالمی شراکت داروں پر زور دیا کہ وہ تجارت اور سرمایہ کاری کو آسان بنانے اور ایک کھلی عالمی معیشت کی تعمیر کے لئے مزید تعاون کریں۔علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری کے ارکان کی تعداد 15 ہے۔ جن میں جنوب مشرقی ایشیائی اقوام کی تنظیم (آسیان) کے 10 ممالک کے ساتھ ساتھ چین، جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں۔ یکم جنوری 2022 کو باضابطہ طور پر نافذ العمل ہونے کے بعد علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری نے علاقائی تعاون کو فروغ دیا ہے جو فوائد کا اشتراک کرتا ہے اور ترقی کو فروغ دیتا ہے۔چین کے جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے مطابق چین نے 2022 میں علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری کے دیگر ارکان کے ساتھ اپنی تجارت میں سالانہ 7.5 فیصد کیا ہے ۔ 2023 میں 14 آر سی ای پی ارکان کے ساتھ چین کی بیرونی تجارتی مالیت میں 2021 کے مقابلے میں 5.3 فیصد اضافہ ہوا۔ سال 2024 کے ابتدائی 10 ماہ میں علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری کے دیگر ممالک کے ساتھ چین کی تجارت 4.3 فیصد بڑھی۔شِنہوا کے ساتھ گفتگو میں تھائی لینڈ کی چولالونگ کورن یونیورسٹی کے ساسین سکول آف مینجمنٹ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر چھائی پونگ پونگ پانیچ نے بتایا کہ آسیان ممالک اور چین کے درمیان صنعتی چین ایک دوسرے کی تکمیل ہے اور علاقائی جامع اقتصادی شراکت داری نے خطے میں کاروباری اداروں کے لئے مارکیٹ کے وسیع مواقع پیدا کئے ہیں۔انہوں نے تھائی لینڈ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ڈوریان، آم، ناریل اور دیگر استوائی پھل آسانی سے چینی مارکیٹ میں آسکتے ہیں جس سے تھائی پھلوں کے کاشتکاروں کو بہت فائدہ ہوگا۔ اسی طرح چینی الیکٹرک گاڑیاں (ای وی) فعال طریقے سے تھائی مارکیٹ میں اپنا حصہ بڑھارہی ہیں۔



