عرس بابا لعل شاہ سوراسی: مقامی آبادی اور تعلیمی ادارے شدید مسائل کا شکار`
اہلِ علاقہ وپرائیویٹ سکولز یونین مری کادورانِ عرس سوراسی روڈ پر قائم تمام سکولز بند رکھنے کا مطالبہ
بابا لعل شاہ سوراسی کے سالانہ عرس کی تقریبات شروع ہو گئیں جو 18 جون تک جاری رہیں گی۔ بڑی تعداد میں لوگ قافلوں کی شکل میں سوراسی دربار آنا شروع ہو گئے۔ گزشتہ روز تعلیمی اداروں کے سربراہان و مختلف تنظیموں کے عہدِ داران و ذمہ داران کا اجلاس ہوا۔ اجلاس پاکستان انٹرنیشنل سکول اینڈ کالج نیو مری کے پرنسپل اور پرائیویٹ سکولز یونین کے جنرل سیکرٹری انیس الرحمن عباسی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا جس۔ چونکہ ہر سال عرس کے دنوں میں سوراسی روڈ پر واقع نجی و سرکاری سکولز اور اہلِ علاقہ شدید پریشانی اور مشکلات سے دو چار ہوتے ہیں۔ اِن دنوں نیو مری بازار سے سوراسی دربار تک کا سارا علاقہ ملک بھر سے آنے والے زائرین و عقیدت مندوں کی وجہ سے شدید ٹریفک جام کا شکار ہو جاتا ہے۔ان زائرین میں جہاں بابا لعل شاہ مرحوم سے عقیدت رکھنے والے شریک ہوتے ہیں، وہیں ایسے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں جو معاشرتی برائیوں، نشہ، چوری اور دیگر جرائم میں ملوث ہوتے ہیں، جس سے نہ صرف مقامی ماحول متاثر ہوتا ہے بلکہ ان معاشرتی خرافات، نشہ آور افراد اور غیر اخلاقی عناصر کی موجودگی تعلیمی و تربیتی اور علاقے کے ماحول کو شدید متاثر کرتی ہے۔خاص طور پر لڑکیوں کےسکولز اور خواتین اسٹاف کو شدید پریشانی اور خطرات لاحق ہوتے ہیں۔
تمام نجی سکولوں نے عرس کے دنوں میں تعطیلات کا اعلان کر دیا ہے، تاہم گرلز ہائی اسکول سوراسی جو کہ دربار کے بالکل قریب اور مرکزی سڑک کے کنارے واقع ہےبدستور کھلا رہتا ہے جو طالبات، والدین، خواتین اساتذہ، انتظامیہ اور مقامی افراد کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ اکثر والدین اپنی بیٹیوں کو موجودہ حالات کے باعث اسکول بھیجنے سے گریز کرتے ہیں۔اہلِ علاقہ، اسکولز ہیڈز، تعلیمی ادارے، پرائیویٹ سکولز یونین اور انجمن فروغِ تعلیم مری کے نمائندگان محکمۂ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے پرزور اپیل کرتے ہیں کہ عرس بابا لعل شاہ کے دوران (11 جون تا 18 جون) سوراسی روڈ پر واقع تمام اسکولز بشمول گرلز ہائی اسکول سوراسی کی باضابطہ تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے اور طلباء و طالبات، والدین اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔


