صدر ایمانویل میکرون کا ڈونلڈ ٹرمپ سے یورپی عہدیداروں پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ
خط کے ذریعے امریکی پابندیوں کو یورپی خودمختاری اور بین الاقوامی انصاف کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا

تفصیلات کے مطابق فرانس کے صدر Emmanuel Macron نے سابق امریکی صدر Donald Trump کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں انہوں نے یورپی حکام پر عائد امریکی پابندیوں کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ پابندیاں چند اہم یورپی شخصیات پر عائد کی گئی تھیں جن میں یورپی یونین کے سابق کمشنر Thierry Breton اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کے جج Nicolas Guillou شامل ہیں۔
صدر میکرون نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ پابندیاں نہ صرف یورپی خودمختاری کے خلاف ہیں بلکہ ان سے عالمی عدالتی نظام کی آزادی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یورپی حکام نے اپنی ذمہ داریاں یورپی قوانین اور پالیسیوں کے تحت انجام دیں، لہٰذا ان پر کسی بیرونی دباؤ یا پابندی کا اطلاق درست نہیں۔
واضح رہے کہ تھیری بریتون نے اپنے دور میں یورپی یونین کی ڈیجیٹل پالیسیوں اور ٹیکنالوجی سے متعلق قوانین کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ ان قوانین کا مقصد بڑی عالمی ٹیک کمپنیوں کو ضابطے میں لانا اور صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔ بعض حلقوں کے مطابق انہی اقدامات کے باعث انہیں امریکی ناراضی کا سامنا کرنا پڑا۔
اسی طرح بین الاقوامی فوجداری عدالت، جسے International Criminal Court کے نام سے جانا جاتا ہے، عالمی سطح پر جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی تحقیقات کرتی ہے۔ عدالت کے جج پر پابندی کو یورپی رہنماؤں نے عدالتی آزادی میں مداخلت قرار دیا ہے۔
صدر میکرون نے اس بات پر زور دیا کہ یورپ اور امریکہ کے درمیان تعلقات تاریخی اور اسٹریٹجک نوعیت کے حامل ہیں، لہٰذا اختلافات کو سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پابندیاں مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید تناؤ کا سبب بن سکتی ہیں۔
فرانس کے اندر بھی اس معاملے پر مختلف آراء سامنے آئی ہیں۔ کچھ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ میکرون کا یہ قدم یورپی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری ہے، جبکہ دیگر ناقدین اسے غیر ضروری سفارتی دباؤ قرار دے رہے ہیں۔ تاہم فرانسیسی حکومت کا مؤقف واضح ہے کہ یورپی عہدیداروں کو ان کے سرکاری فرائض کی انجام دہی پر سزا نہیں دی جانی چاہیے۔
ماہرین کے مطابق یہ معاملہ یورپ اور امریکہ کے تعلقات میں ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دونوں خطوں کے درمیان تجارتی، دفاعی اور ڈیجیٹل معاملات پر پہلے ہی اختلافات موجود ہیں۔ اگر پابندیاں برقرار رہتی ہیں تو اس سے باہمی اعتماد متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس خط کے جواب اور ممکنہ سفارتی رابطوں سے صورتحال مزید واضح ہو جائے گی۔ فی الحال عالمی برادری کی نظریں اس پیش رفت پر مرکوز ہیں کہ آیا امریکہ ان پابندیوں پر نظرِ ثانی کرے گا یا نہیں۔
رپورٹ: عبدالمومن



