قومی

سندھ حکومت کا وفاقی وزراء کے بیانات پر سخت ردِعمل، آئینی وضاحت کا مطالبہ

وفاقی وزراء کے بیانات پر سندھ حکومت کا سخت ردعمل، آئینی وضاحت کا مطالبہ

سندھ حکومت کے ترجمان اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے وفاقی وزراء خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال کی حالیہ پریس کانفرنس پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بیانات کم علمی اور آئین سے ناواقفیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، ورنہ وہ اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔

شرجیل انعام میمن نے سوال اٹھایا کہ چونکہ خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال دونوں وفاقی وزیر ہیں، اس لیے ان کے بیانات کو محض ذاتی رائے قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے بیانات سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ شاید یہ وفاقی حکومت کی پالیسی ہو، لہٰذا وفاقی حکومت پر لازم ہے کہ وہ اس حوالے سے فوری اور واضح مؤقف سامنے لائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت یہ توقع رکھتی ہے کہ وفاقی قیادت وضاحت کرے کہ ان کے دو وفاقی وزراء اور اتحادی جماعت مسلسل سندھ حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ اور سیاسی کشیدگی کو ہوا دینے میں کیوں مصروف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرزِ سیاست سے نہ صرف صوبائی خودمختاری متاثر ہوتی ہے بلکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان اعتماد کی فضا بھی مجروح ہوتی ہے۔

صوبائی وزیر اطلاعات نے اس بات پر زور دیا کہ گورنر ہاؤس کراچی ایک آئینی منصب کی علامت ہے اور اسے سیاسی محاذ آرائی یا کسی صوبائی حکومت کے خلاف سرگرمیوں کا مرکز نہیں بنایا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق آئینی اداروں کا احترام اور ان کی غیر جانبداری جمہوری نظام کی مضبوطی کے لیے ناگزیر ہے۔

شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ملک پہلے ہی سنگین سیاسی اور معاشی چیلنجز سے گزر رہا ہے، ایسے میں وفاق اور صوبوں کے درمیان کشیدگی پیدا کرنا دانشمندی نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام سیاسی قوتوں کو چاہیے کہ وہ آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے باہمی احترام اور تعاون کی فضا کو فروغ دیں تاکہ قومی استحکام یقینی بنایا جا سکے۔

رپورٹ: عبدالمومن

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button