کالمز

شہنشاہِ اقلیمِ سخن ریاض ساغر کی پہلی برسی

تحریر ۔۔محمد نعیم مرادآبای

اردو ادب کے مایہ ناز شاعر،ادیب،دانشور،اورماہرِ تعلیم ریاض ساغر کی پہلی برسی انجمن ترقی پسند مصنفین ہری پور کے زیرِ اہتمام انجمن کے سرپرستِ اعلیٰ جناب پروفیسر وحید قریشی کی زیرِ صدارت عقیدت و احترام سے منائی گئی۔جس میں ان کے حلقہء احباب مداحین اور تلامذہ نے بھر پور شرکت کی۔ نقابت کے فرائض راقم الحروف نے انجام دیے۔شرکاء کی طرف سے ریاض ساغر کوبھرپور خراج عقیدت پیش کیا گیا۔راقم نے موصوف کے معرکہ آرا اشعار
نئی آنکھیں پرانے منظروں سے تھک چکی ہیں
یہ روحیں رفتہ رفتہ مقبروں سے تھک چکی ہیں
اب ان میں فاختائیں چہچہائیں گیت گائیں
یہ گلیاں آتے جاتے لشکروں سے تھک چکی ہیں
سامعیں کی سماعتوں کی نذر کیے تو محفل میں ایک سکوت طاری ہوگیا۔اورسب نے ان اشعار پر بھرپور داد و تحسین پیش کی۔
راقم عہدِ طفولیت میں توآںجناب سے اپنی ابتدائی وابستگی پران کی طلسماتی شخصیت سےپہلی نظرکے سحرسے ان کا گرویدہ اور فریفتہ ہو گیا تھا۔اور مرورِ ایام سے یہ منکشف ہوا کہ ریاض ساغر کی ہستی تو سراپا روشنی کا ایک ہالہ تھی جو کشتگانِ شوق کواپنے حصار میں ضوفشانی عطا کرتی رہی۔
لہذاہم سب خوش نصیب ہیں کہ ہم نے عہدِ ریاض ساغر میں جنم لیا ہے۔اور آج "دوچارگھڑی بیٹھ کے”ایک بڑی ہستی کو خراجِ عقیدت پیش کرنا ہمارے لیے اعزاز سے کم نہیں۔وہ ریاض ساغرجو ایک مثالی شخصیت اورمحبتوں کا پیامبر تھا۔
جس نے اپنے خونِ جگر سے شعور وفکر کی جو ضیاپاشی اپنے مجموعہء کتب "پانچواں موسم”اور "ساتویں سمت”میں کی اور اردو ادب کےجن مقتدراور مشاہیرادباءو شعراءنے ان کی عظمت کااعتراف کر کےانھیں جن الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے وہ اردو ادب کاقیمتی اثاثہ ہیں۔دورانِ تقریب اہلِ نقدودانش میں افسر منہاس اور راجہ ریاض الرحمٰن کے رشحاتِ قلم کے اقتباسات اور جنابِ ساغر کے اشعار بھی سنائے گئے۔
انجمن کے سیکرٹری اطلاعات و نشریات حسن سیف نے آںجناب سے اپنی عقیدتوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موصوف جتنے بڑے شاعر تھے وہ اتنے بڑے انسان بھی تھے۔ہم نے ان سے محبت رواداری۔رکھ رکھاو۔شعرفہمی اورحرفوں کی توقیرسیکھی ۔جناب ساغرایک چلتی پھرتی تہذیب تھے۔ان کی رفاقت میں گزرے ماہ وسال میری حیات کا سرمایہ ہیں۔
ریاض ساغر صاحب کے بھتیجےپروفیسر احسن علی نے اپنےاظہارِ خیال میں کہا کہ ہمارے چچا نےوالد کی وفات کے بعد ہمیں حقیقی محبت دی۔ان کے کارنامے اور ان کی یاد ہمارا سرمایہ ہیں۔ہمارے لیےیہ بہت بڑا اعزاز ہے کہ لوگ ساغر صاحب کے نام سےہماری عزت افزائی کرتے ہیں۔انھوں نے تقریب کے منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔ پروفیسر ذکاءالرشید نے اپنے اظہارِ خیال میں فرمایا کہ ریاض ساغر سلطنتِ شعرو ادب کے حکمران تھے۔وہ درویش صفت انسان تھے۔ان کے جانے کے بعد یہ خلا کبھی نہیں پورا ہو سکے گا۔
انجمن ترقی پسند مصنفین ہری پور کے صدر طاہر گل نے جنابِ ساغر سے اپنی وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے انھیں زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اتنا عظیم انسان ہونے کے باوجود کبھی انھوں نے اس کا اظہار نہیں ہونے دیا۔ان کی راہنمائی میں گزرے لمحات صدیوں پر بھاری ہیں۔ان کی محبت ہمارا سرمایہ ہے۔انھوں نے انجمن کی پسِ پردہ جو خدمت اور اعانت کی وہ ان کی ذات کا جوہر تھا۔جب تک اردو ادب زندہ ہے ان کا کلام بھی تابندہ رہے گا۔
ریاض ساغر کے ہمدمِ دیرینہ پروفیسر عبدالقادر ساجد نے فرمایا کہ موصوف ایک بڑی شخصیت تھے آپ نے مزرعِ شعرو ادب کی خوب آبیاری کی ۔میں نصف صدی قبل ہی نہ صرف ان کے سحر میں گرفتار بلکہ ان کا گرویدہ ہو چکا تھا۔آپ نے سانحہٴ ارتحال پر ایک رثائی نظم بھی سنائی جسے بے حد پسند کیا گیا۔
مشہور سماجی شخصیت جناب تحسین الحق اعوان نے اشکبار آنکھوں سے سبھی اہلِ محفل کی آنکھوں کو پرنم کرتے ہوئےکہا کہ ساغر سےمیرا بچپن کا یارانہ تھا۔اور آج وہ بڑی شدت سے یاد آرہے ہیں۔
انجمن کے سرپرستِ اعلیٰ جناب پروفیسر وحید قریشی نے اپنے صدارتی کلمات میں حاضرین کی بھر پور شرکت پرطمانیت اور ان کی سپاس گزاری پر گویا ہوئےکہ سرزمینِ ہری پور پر الطاف پرواز۔حفیظ اثر۔قتیل شفائی اور صوفی عبدالرشید کے ساتھ ساتھ ریاض ساغرنے جس ادبی کام کا بیڑا اٹھایا تھا اسی ادبی فضا میں ہم سانس لےر ہے ہیں۔یہ ہماری خوش بختی تھی کہ ہمیں قدرت نے اتنی بڑی ہستی سے نواز رکھا تھا۔مگر اب اس نعمت اس عطیہء خداوندی کے چھن جانے پر رنجیدہء خاطر ہیں ۔صد شکر کہ حضرت ریاض ساغررحمتہ اللہ علیہ نے اپنی حیات میں جو ادبی ماحول اور فضا تعمیر کی ان کا یہ تابندہ کارنامہ تاریخِ ادبِ اردو تک زندہ و پایندہ رہے گا۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button