سندھ میں سیاست کے بدلتے انداز نظر آنا شروع
کراچی( پاکستانی پوسٹ نیوز) سندھ میں سیاست کے بدلتے انداز نظر آنا شروع ہوگئے ہیں ۔پیپلزپارٹی کی قیادت اندرونی مخالفت کے باوجود سخت ترین مخالفین کو گلے لگاتی نظرآتی ہےتو دوسری بڑی جماعت متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور علیحدگی اختیار کرنے والے رہنماوں میں اندورنی رابطے شروع ہوگئے ہیں۔
سیاسی ، مذہبی اور قوم پرست جماعتوں کے سیاسی ایجنڈے میں بھی انتخابی دنگل کی تیاری سرفہرست نظر آتی ہے۔
پیپلزپارٹی کےشریک چیئرمین آصف علی زرداری پاکستان واپس آنے کے بعد تیزی سے غیرفعال ہونےو الے سابق سیاستدانوں کو متحرک کرنے میں مصروف ہیں ۔پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق اور مسلم لیگ فنکشنل کی کئی وکٹیں گرادی ہیں ۔پیپلز پارٹی سندھ کے دیہی علاقوں میں مسلم لیگ فنکشنل کی مضبوط پوزیشن کو کافی حد تک ڈینٹ لگانے میں کامیاب ہوگئی ہے۔
آصف علی زرداری شہری علاقوں میں پیپلزپارٹی کو مضبوط کرکے مزید نشستیں حاصل کرنے کی منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہیں۔خصوصاً کراچی اور حیدرآباد میں متحدہ قومی موومنٹ کو درپیش مشکلات اور دھڑے بندیوں سے پیپلزپارٹی بھرپور سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری ، آصفہ اور بختاور بھی سیاست میں فعال ہیں ۔بے نظیر بھٹو کی دونوں صاحبزادیوں کی رائے کو پیپلزپارٹی میں اہمیت حاصل ہےجبکہ بلاول بھٹو نے یہ ثابت کیا ہے کہ بحیثیت چیئرمین کسی بھی اختیار کو استعمال کرنے اور فیصلہ سازی کی قوت رکھتے ہیںاور انہیں سندھ کے نوجوانوں میں خاص اہمیت حاصل ہورہی ہے۔حال ہی میں پیپلز پارٹی کی فوجی عدالتوں پر آل پارٹیز کانفرنس بظاہر خاص کامیابی حاصل نہ کرسکی اور اندرونی حلقوں نے عجلت میں اس فیصلے پر تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے ۔
متحدہ قومی موومنٹ پاکستان ، ایم کیو ایم اور علیحدگی اختیار کرکے پاک سرزمین پارٹی بنانےوالے رہنماؤں کو ہمدردوں کی جانب سے مشورے دئیے جارہے ہیں کہ اچھے طرز سیاست، اختلافی سیاست کو برداشت کرنے کے ساتھ دیگرکمزوریوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے ۔کئی نجی محفلوں اور کانفرنسز میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کے رہنماوں میں ملاقاتیں اور پیغامات کا تبادلہ بھی نوٹ کیا گیا ہے۔منظر عام سے دور رہنے والے ایم کیوایم کے سینئررہنما چاہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں اردو بولنے والوں کی نمائندگی کے اس خلاء کو جلد پر کیا جائے ۔سلیم شہزاد کے ملک آکر عدالتوں کا سامنا کرنے کے عمل پر شاید حالات کو پرکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
سندھ میں دیگر سیاسی ، مذہبی اور قوم پرست جماعتیں ، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام، جمعیت علمائے پاکستان، تحریک انصاف ،مسلم لیگ فنکشنل ، مسلم لیگ ن،ایم ڈبلیوایم، سنی تحریک، عوامی تحریک ، جسقم ، جسمم،عوامی نیشنل پارٹی سمیت دیگر جماعتیں بھی اپنی حکمت عملی طے کرتی نظر آتی ہیں ۔مختلف جماعتوں کی بلائی جانے والی آل پارٹیز کانفرنسز میں سیاسی امور، نئے اتحاد اور انتخابی حکمت عملی پر زور دیا جارہاہے ۔نئے اتحاد کیا ہوں گے سندھ میں سیاسی بازی کون مارے گا ان سوالوں کا جواب آنے والے سیاسی اتحاد اورحالات پر منحصر ہے۔



