قومی

اسپیکر سندھ اسمبلی کی اپوزیشن رکن کو ایوان سے نکالنے کی دھمکی

کراچی( پاکستانی پوسٹ نیوز) سندھ اسمبلی میں وزیراعلیٰ کی تقریر پر ردعمل کی اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن ارکان کا احتجاج ،شورشرابے سے ایوان مچھلی بازار بن گیا ۔

سندھ حکومت نے ہنگامہ آرائی کے دوران بلدیاتی ایکٹ 2013ء میں چوتھی ترمیم کا بل منظور کرلیا ہے،اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار نے اسپیکر پر جابنداری کا الزام لگایا ،ایک رکن کے احتجاج پر سراج درانی چراغ پاہوگئے ،باہر نکالنے کی دھمکی دیدی۔

اسمبلی اجلاس میں وزیراعلیٰ نے سانحہ سہون میں سیکورٹی لیپس کو تسلیم کیا لیکن ان کی تقریر کے بعد اپوزیشن کو اجازت نہ ملنے پر اسپیکر کی کسی نے نہ سنی ،جس پر انہوں نے اپوزیشن کو نظر انداز کردیا ۔

آج وزیراعلیٰ سندھ کی تقریر ختم ہوتے ہی اسپیکر اسمبلی نے وقفہ سوالات کی رولنگ دی تو اسی دوران اپوزیشن اراکین نے بھی سانحہ سہون پر بات کرنے کی اجازت مانگی، لیکن اسپیکر نے یہ کہہ کر منع کردیا کہ وقفہ سوالات کے بعد اپوزیشن اراکین بات کرسکیں گے۔

فوری اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ایوان میں شورشرابا شروع کردیا گیا اور اسپیکر کی نشست کے سامنے بھی احتجاج کیا جاتارہاہے،اسی دوران 5منٹ کےلیے کارروائی بھی ملتوی کی گئی۔

5منٹ بعد اجلاس دوبار شروع ہوا تو اپوزیشن اسمبلی اراکین کا احتجاج جاری رہا اور اسی دوران اسپیکر کی جانب وقفہ سوالات شروع کیا گیا اور سوالات نہ ہونے پر اسپیکر نے وزیر بلدیات کو بلدیاتی ترمیمی بل پیش کرنے کی اجازت دی اور اس ترمیمی بل سے متعلق قرارداد وزیر بلدیات جام خان شورو نے ایوان میں پیش کردی۔

شورشرابے میں بلدیاتی ترمیمی بل2013 حکومتی اراکین نے ترمیمی بل کثرت رائے سے منظورکرلیا، اس کے بعد اسپیکر کی جانب اپوزیشن اراکین کو سانحہ سہون پر بات کرنے کی اجازت دے دی گئی۔

متعلقہ آرٹیکل

Back to top button