سندھیوں اور مہاجروں کو ایک دوسرے کو تسلیم کرتے ہوئے نفرتوں کا خاتمہ کرناہوگا۔۔
پورے پاکستان میں اگر صوبے بنتے ہیں تو سندھ پاکستان کا ہی حصہ ہے یہاں بھی صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں۔
کراچی سندھ قومی الائنس کے سربراہ خدا بخش شیخ (کے بی شیخ) نے کہا ہے کہ سندھیوں اور مہاجروں کو ایک دوسرے کو تسلیم کرتے ہوئے نفرتوں کا خاتمہ کرناہوگا۔شرجیل میمن نفرت کی سیاست کو بڑھاوا نہ دیں۔ پورے پاکستان میں اگر صوبے بنتے ہیں تو سندھ پاکستان کا ہی حصہ ہے یہاں بھی صوبے بننے میں کوئی حرج نہیں۔ وہ حیدر ؤباد اور دادو کے دورے کے بعد کراچی میں مرکزی رابطہ کمیٹی اور کونسل کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ کے بی شیخ نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی بیڈ گورننس نے مہاجروں میں دوبارہ محرومی کو جنم دے دیا ہے۔ ہم مہاجروں کو سندھ کا اصل باسی مانتے ہیں۔کراچی کو کرائم اور کرپشن سٹی بنا دیا گیاہے۔میئر نے اپنی کرپشن چھپانے کے لئے صحافیوں کی ایف آئی آر کٹوانی شروع کردی ہے۔ مزدور حق مانگیں تو انکی ایف آئی آر کٹوا دیتا ہے۔ یہی بات بلاول بھٹو کو سمجھنی ہوگی کہ انکے نانا نے طلبہ مزدور اور کسان، روٹی کپڑا اور مکان اور جمہوریت کی بالادستی کے لئے پیپلز پارٹی بنائی تھی۔ انکی والدہ جمہوریت کے لئے شہید ہوگئیں۔یہ میئر جمہوریت کو کچل کر پیپلز پارٹی کو آمریت پسند جماعت بنا رہاہے۔میئر کے کرپشن کا عالم یہ ہے کہ بلاول بھٹوکی والدہ بینظیر بھٹو کے نام کا اسٹیڈیم جسکا انکے ناظم امیرعالم عرف گڈو بہاری نے سنگ بنیاد رکھا تھا وہ انکی جماعت افسران نے میئر کی آشیر باد سے بیچ دیا۔ جعلی آکشن کرکے زمینیں جعلی انٹریز سے من پسند افراد کو دی جا رہی ہیں۔ چار چار گریڈکے جعلی افسران کروڑوں روپے دے کر نو ہزار ایکڑ زمین بیچ رہے ہیں۔ کرپشن کو جو بے نقاب کرے اسکی ایف آئی آر کٹوانے سے گورننس بہتر نہیں ہوگی۔ کرپٹ بیورو کریسی کا سندھ میں راج ہے۔ بلاول بھٹو گھر بنا رہا ہے اور میئر گھر اجاڑ رہا ہے۔ دوہری پالیسی پر پیپلز پارٹی کو عوام کو جواب دے ہونا ہوگا۔ دادومیں پیپلز پارٹی کے کئی گروپس بن چکے ہیں۔ حیدر آباد کے میئر نے بھی کرپشن کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے۔ ایم کیو ایم (مفاد پرست قومی موومنٹ) بن چکی ہے۔ ہم سندھی ضرور ہیں لیکن ظالم نہیں۔ جی ڈی اے سے بھی کہا ہے کہ بہادر بنیں مہاجروں کو ساتھ لے کر چلیں۔ پیپلز پارٹی نے کراچی اور حیدر آباد کو تباہ کردیا۔ ذولفقار علی بھٹو نے متروکہ املاک مہاجروں کو دینے کے جائے کوٹہ سسٹم سے نفرت کو جنم دیا۔ بلاول بھٹو مہاجروں سے نفرت کو ختم کرائیں۔ انتظامی یونٹ کی حمایت کریں۔ ورنہ سندھ دو لسانی صوبہ ہے۔ یہاں نفرت کا انجام بھیانک ہوگا۔ آفاق احمد نفرت انگیز گفتگو کے بجائے سندھی اور مہاجروں کے اتحاد کی بات کریں۔ میئر کراچی صحافیوں کی ایف آئی آر واپس لیں۔ احتساب کریں اگر وہ صھیح ہیں تو گڈ گورننس سے کراچی کو ترقی اور کرپٹ افسران اور مافیاز کے خلاف جنگ کریں۔


